خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 274 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 274

خطبات مسرور جلد چهارم 274 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر بھی سن رہے تھے۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ وہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور دیوانے کی طرح بڑھے آئے ہیں لیکن آپ کی کمال شجاعت کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ آپنے رفیق صادق صدیق کو فرماتے ہیں۔یہ الفاظ بڑی صفائی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے زبان ہی سے فرمایا۔کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں اشارہ سے کام نہیں چلتا۔یعنی یہ فقرہ بولا تو یقینا آپ نے اونچی آواز میں بولا ہوگا اور کہا ہوگا کیونکہ اشارے سے تو کام نہیں چلتا۔فرمایا کہ 'باہر دشمن مشورہ کر رہے ہیں اور اندر غار میں خادم و مخدوم بھی باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔اس امر کی پروا نہیں کی گئی کہ دشمن آواز سن لیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ پر کمال ایمان اور معرفت کا ثبوت ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر پورا بھروسہ ہے کہ اللہ تعالی مددفرمائے گا۔(بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زیر سورة التو به آیت 40 ، جلد 2 صفحه 628) پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے موقع پر کس طرح آپ کی دعاؤں کو سنا اور مددفرمائی اور بہت تھوڑے سے مسلمانوں کے ذریعے سے جن کے پاس پوری طرح اسلحہ بھی نہیں تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ ایک لحاظ۔تقریبا نہتے تھے، تربیت یافتہ اسلحے سے لیس جنگجو کفار کو شکست دلوائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَّانْتُمْ اَذِلَّةٌ۔فَاتَّقُوْا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (آل عمران : 124) اور یقینا اللہ بدر میں تمہاری نصرت کر چکا ہے جبکہ تم کمزور تھے۔پس اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم شکر کر سکو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلے میں اور اس بات کو اپنے زمانے کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ” اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی اور وہ مدد از لیہ کی مدد تھی۔جس وقت 313 آدمی صرف میدان میں آئے تھے اور کل دو تین لکڑی کی تلوار میں تھیں اور ان 313 میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہوگی۔اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمعیت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ پر دعا کی اَللَّهُمَّ اِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا یعنی اے اللہ اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ رہے گا۔فرماتے ہیں کہ: ”سنو! میں بھی یقیناً اسی طرح کہتا ہوں کہ آج وہی بدر کا معاملہ ہے۔اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے۔وہی بدر اور اَذِلَّةٌ کا لفظ موجود ہے۔کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی ؟۔نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔kh5-030425