خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد چهارم 275 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء فرماتے ہیں کہ : ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں اور کیا مجال ہے جوسر اٹھائیں۔اس ملک کا کیا حال ہے؟ ہندوستان کی بات کر رہے ہیں۔کیا اَذِلَّة نہیں ہیں۔ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔کوئی ایک ذلت ہے جس میں ان کا نمبر بڑھا ہوا ہے۔جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں وہ ان میں پاؤ گے۔ٹکڑ گدا مسلمان ہی ملیں گے۔جیل خانوں میں جاؤ تو جرائم پیشہ گرفتار مسلمان ہی پاؤ گے۔شراب خانوں میں جاؤ کثرت سے مسلمان۔اب بھی کہتے ہیں ذلت نہیں ہوئی؟ کروڑ ہانا پاک اور گندی کتابیں اسلام کے رد میں تالیف کی گئیں۔ہماری قوم میں مغل ، سٹیڈ کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سید المعصومین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو کو سنے لگے۔صفدر علی اور عمادالدین وغیرہ کون تھے؟ اُمہات المومنین کا مصنف کون ہے ؟ یہاں مسلمانوں کا ذکر کیا ہوا ہے کہ اس وقت کے زمانے میں یہ حالت تھی۔آج کل بھی دیکھ لیں بعض جگہ اسی طرح کے حالات ہیں۔فرماتے ہیں کہ: ”جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔اب جو کچھ ہوا ، شور شرابے کے بعد کیا ہوا۔سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔سب کچھ بھول بھال گئے ہیں۔جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وقتا فوقتا فتنے اٹھتے رہتے ہیں اور پھر اسلام کے خلاف جو ایک محاذ بنا ہوا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں: "اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں ہوئی۔کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا استتار ہا ہا نام بھی باقی نہ رہتا۔تب محسوس کرتے کہ ہاں اب ذلت ہوئی ہے !!!۔آہ! میں تم کو کیونکر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے۔دیکھو! میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہی بدر کا زمانہ ہے۔اسلام پر ذلت کا وقت آچکا ہے۔مگر اب خدا نے چاہا ہے کہ اس کی نصرت کرے۔چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور حج ساطعہ کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھا دوں۔اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔( بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، زیر سورۃ آل عمران آیت 124 جلد 2 صفحہ 150-149 ) اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی شان تو قائم ہونی ہے اور احمدیت کے ذریعے سے قائم ہوئی ہے۔گو کہ مخالفین اور دشمن اور جو اسلام کے خلاف ہیں وہ بھی اس وقت پورا زور لگا رہے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں : اس آیت میں بھی دراصل ایک پیشگوئی مرکوز تھی یعنی جب چودھویں صدی میں اسلام ضعیف اور نا تو ان ہو جائے گا اس وقت اللہ تعالیٰ اس وعدہ حفاظت کے موافق اس کی نصرت کرے گا۔پھر تم کیوں تعجب کرتے ہو کہ اس نے اسلام کی نصرت کی ؟“۔( بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، زیر سورۃ آل عمران آیت 124 جلد 2 صفحہ 150 ) یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو، آپ کی آمد کو دیکھ کے پریشان نہ ہو، تعجب نہ کرو۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا۔مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کا ساتھ دیں۔kh5-030425