خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 273

خطبات مسرور جلد چهارم 273 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء فرعون ہے تو یہ جو واقعات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں یہ اس لئے ہیں کہ اس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بھی یہ نظارے دکھائے جائیں گے بشرطیکہ وہ اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔اگر فرعون پیدا ہوں گے تو فرعونوں کے سر کچلے جائیں گے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت یہ نظارے دیکھتی ہے۔اگر مسلمانوں نے بھی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابھی تک نہیں مانا، یہ نظارے دیکھنے ہیں تو اپنے آپ کو بھی کامل اور مکمل مومن بنانا ہو گا تب یہ نظارے نظر آئیں گے۔پس فرعونوں پر غالب آنے کے لئے اپنی حالتوں پر غور کرنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ کہاں کہاں کمیاں ہیں۔اور جو کمی ہمیں نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ زمانے کے مسیح کا انکار کر رہے ہیں۔جب تک موسیٰ کے ساتھ نہیں جڑیں گے فرعونوں پر غلبہ حاصل نہیں ہوسکتا۔پھر جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظاروں کی معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے، آپ کی ذات میں ہمیں نظر آتی ہے جس کے بے شمار واقعات ہیں ان واقعات کو تو میں اس وقت نہیں لے رہا۔لیکن قرآن کریم میں جو بعض مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں سے چند ایک کو بیان کروں گا۔ایک مثال تو ہجرت کے وقت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا معجزہ دکھایا جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔قرآن کریم نے اس واقعہ کا یوں ذکر فرمایا ہے کہ ﴿ إِلَّا تَنصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْهُمَا فِي الْغَارِإِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلَى۔وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة :40) اس کا ترجمہ یہ ہے، اگر تم اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ بھی کرو تو اللہ پہلے بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا وطن سے نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا۔جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کر دکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا۔اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے۔اور اللہ کامل غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ اس غار کی تلاشی کرو کیونکہ نشان پایہاں تک ہی آ کر ختم ہو جاتا ہے۔لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گز راور دخل کیسے ہوگا۔مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے، کبوتر نے انڈے دیئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آواز میں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ kh5-030425