خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد چهارم 147 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006ء ہے تو اگر سوڈالر کی امداد دی جاتی ہے تو حقیقتا صرف تین ڈالر اس قوم کے مفاد میں استعمال ہورہے ہوتے ہیں جسے امداد دی جاتی ہے اور باقی صرف احسان ہوتا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ عرب ممالک اور ایران وغیرہ کی ہمارے نزدیک ایک خاص اہمیت ہے یعنی امریکہ یا مغربی ممالک کے نزدیک ، اس لئے ان کو اپنے زیر نگیں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔اس نے لکھا ہے کہ عراق کے تیل کے ذخائر جہاں ہیں ان کی اہمیت کے علاوہ اس کے دو دریاؤں دجلہ اور فرات کی وجہ سے جو پانی کے وسائل ہیں ان کی بھی اہمیت ہے۔کہتا ہے اس وجہ سے خطے کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے مطابق ، بعض اندازے جو لگائے گئے ہیں، عراق میں سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل کے ذخائر ہیں۔اس کے علاوہ جغرافیائی لحاظ سے بھی بڑی اہمیت ہے اس لئے اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ کتاب لکھنے والے جان پر کنز (John Perkins) ہیں انہوں نے یہ ساری صورتحال لکھی ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غلط لکھی ہے لیکن بعد کے جو حالات ہیں وہ بتارہے ہیں کہ جو باتیں بھی لکھیں صحیح لکھتے رہے۔کیونکہ یہ کم و بیش با تیں ایسی ہیں جو اس کتاب کے لکھے جانے سے 10-12 سال پہلے ہی جیسا کہ میں نے کہا اپنے خطبات کے سلسلے میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بیان کر چکے ہیں۔اس وقت کی خبروں کے حساب سے یعنی جب پہلی دفعہ 1991ء میں عراق پر حملہ کیا گیا تھا مغربی رہنماؤں نے یہ بیان دیئے تھے کہ ہمیں عراق کے تیل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، ہمیں اگر دلچسپی ہے تو دنیا میں امن قائم کرنے میں دلچسپی ہے۔اس لئے جو بھی امن کو نقصان پہنچاتا ہے اسے سزا دینی ضروری ہے اور دیکھیں اب یہ سزا اتنی سخت ہے اور اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ 16-17 سال ہو گئے ہیں مگر وہ سزا دیتے چلے جارہے ہیں۔یہ بھی مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی بجائے ان مغربی ممالک کے مرہون منت ہیں، ان کے آلہ کار بنتے چلے جارہے ہیں۔ان مغربی رہنماؤں کے عراق کے تیل سے عدم دلچسپی کے دعوی کی اس کتاب نے قلعی کھولی ہے۔ایران سے بھی ان لوگوں کو اس لئے دلچسپی ہے اور اس پر ان مغربی ملکوں کی بات نہ مانے پر پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں غور شروع بھی ہو چکا ہے، بلکہ کاروائی بھی شروع ہو چکی ہے کہ وہاں بھی تیل کے ذخائر ہیں کیونکہ وہاں ایک لمبے عرصے سے جو ایران کی حکومت ہے اس کو ختم کر کے اپنی مرضی کی جمہوری حکومت قائم کرنے کے منصوبے بن رہے تھے۔اس کتاب والے نے یہ بھی لکھا ہے کہ شاہ ایران کے وقت میں بھی 52-1951 ء کی بات ہے جب ایک مغربی آئل کمپنی کے خلاف بعض وجوہ کی بنا پر اس وقت کے وزیر اعظم نے کارروائی کی تو ایران میں kh5-030425