خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد چهارم 146 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء اپنے خطبات میں کھینچا تھا اور کئی خطبات اس بارے میں ارشاد فرمائے تھے جس میں مسلمانوں کو بھی اس خوفناک حالت سے باہر نکلنے کے مشورے دیئے تھے اور جماعت کو بھی توجہ دلائی تھی کہ عالم اسلام کے لئے دعا کریں کیونکہ بہت ہی خوفناک حالات اسلامی دنیا اور خاص طور پر عرب دنیا کے نظر آ رہے ہیں۔اسلامی دنیا کو جو مشورے آپ نے دیئے تھے اُن پر تو ظاہر ہے ہمیشہ کی طرح اسلامی دنیا کے لیڈروں نے نہ توجہ دینی تھی اور نہ دی۔اور جو تجزیہ آپ نے کیا تھا اور جو نتائج اخذ کئے تھے عین اسی کے مطابق ہم نے نتائج دیکھے۔دس بارہ سال کی انتہائی سختیوں کے بعد عراق کو جس طرح تہس نہس کیا گیا وہ تمام حالات ہمارے سامنے ہیں۔آج بھی بظاہر پرانی حکومت کو الٹانے اور بظا ہر نئی جمہوری حکومت لانے کے باوجود جو آگ لگی ہوئی ہے یا جو آگ اس وقت لگی تھی اس میں روز بروز شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔اب اخباروں میں ہر جگہ یہ شور ہے کہ عراق میں سول وار (Civil War) کا خطرہ ہے۔کل پھر ایک بڑا خوفناک ہوائی حملہ ہوا ہے، انہوں نے یہ حملہ ریگستان میں کیا ہے، کہتے یہی ہیں کہ یہاں کچھ لوگ چھپے ہوئے تھے ، اور کچھ اسلحہ کے ڈپو تھے ان کو تباہ کرنا ضروری تھا۔تو بہر حال جو آگ بھڑکی تھی وہ اب تک بھڑکتی چلی جارہی ہے۔اس سے یقیناً ایک احمدی کا دل دکھتا ہے کیونکہ مسلمان کہلانے والوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کی یہ حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔اس لئے ہمیں انتہائی درد سے مسلم امہ کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ انہیں آپس کی دشمنیوں سے بھی بچائے اور بیرونی دشمنوں سے بھی بچائے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی لیڈرشپ اور رہنمائی کو ہوش مند ہاتھوں میں دے جن کے اپنے ذاتی مفاد نہ ہوں۔بدقسمتی سے مسلمانوں کو جو بھی قیادت اب تک ملی ہے، الا ماشاء الله، تمام اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے رہے ہیں اور جو ملکی مفاد کی خاطر کام کر نیوالے تھے انہیں اندرونی اور بیرونی سازشوں نے نا کام کر دیا۔گزشتہ دنوں ایک کتاب نظر سے گزری۔یہ کتاب ایک امریکن کی ہے اس نے اپنے ہی ملک کی حکومت کا مختصر طور پر نقشہ کھینچا ہے کہ وہ ان ملکوں میں کیا طریقہ واردات اختیار کرتے ہیں۔وہ بھی اس میں ایک عرصہ تک کام کرتا رہا ہے۔پہلے بھی یہ لوگ لکھتے رہے ہیں لیکن یہ نئی کتاب ہے کہ کس طرح مختلف کمپنیوں کے ذریعے سے یہ تیسری دنیا کے ممالک کو اپنے قابو میں کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے انہیں اپنے زیر نگیں کر لیتے ہیں۔اس کے مطابق اگر مختلف مالی اداروں کے ذریعے سے ان غریب ممالک کو یا ترقی پذیر ممالک کو انڈسٹری وغیرہ لگانے کے لئے کوئی امداد دی جاتی ہے یا کوئی پروجیکٹ شروع کیا جاتا kh5-030425