خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 148

خطبات مسرور جلد چهارم 148 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء ان ملکوں کی طرف سے ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ عوام میں حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف جلسے جلوس نکالے جانے شروع ہو گئے جس کے نتیجے میں اس کی حکومت ختم ہوگئی۔اور پھر شاہ ایران کے ذریعے سے اپنی من مانی کے کام کروائے گئے۔تو اب گزشتہ دنوں ( 3-4 دن پہلے ) پھر اخبار میں تھا کہ آج کل امریکہ ایران کے خلاف، اس کی ایٹمی توانائی کے خلاف جو پابندیاں لگانا چاہتا ہے اگر ایران نے بات نہ مانی تو ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں گے کہ عوام کو ایرانی رہنماؤں سے علیحدہ کیا جائے ، ان کے اندر ایسی صورت حال اور بے چینی پیدا کی جائے کہ اندر سے عوام اٹھ کھڑے ہوں اور پھر یہ ہے کہ ساتھ بیرونی پابندیاں بھی لگانی شروع کی جائیں گی۔تو یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں، چاہے وہ عراق ہو، ایران ہو یا کوئی اور اسلامی ملک ہو کہ اسلامی دنیا کے خلاف یہ کاروائیاں ہورہی ہیں اور ہوتی رہیں گی اور خاص طور پر ایسے ممالک جن کے پاس وسائل بھی ہیں، بعض قدرتی وسائل ہیں اور امکانات ہیں کہ وہ ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑے ہو جائیں۔یا جن کے بارے میں مغرب کے بعض ملکوں کو یہ شک ہے کہ ان کے مقابل پر کھڑے ہو کر یہ ملک ان کی پالیسیوں سے اختلاف کر سکتے ہیں، تو ان کے خلاف بہر حال کارروائیاں ہوتی ہیں۔پس اسلامی ملکوں کے لئے یہ غور کا مقام ہے کہ اب بھی سبق حاصل کر لیں۔جو نصیحت آج سے 16 سال پہلے ان کو کی گئی تھی اس سے انہوں نے سبق حاصل نہیں کیا تھا، اس کو دوبارہ دیکھیں۔ایک ملک تو راکھ کا ڈھیر ہو گیا لیکن بدقسمتی سے وہاں کے عوام کو اب بھی عقل اور سمجھ نہیں آ رہی۔غلط رہنماؤں کے ہاتھوں میں جو رہنما اپنے ذاتی مفادر کھتے ہیں یا جو بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوتے ہیں، عوام بھی ان کی باتوں میں آکر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔وہاں پچھلے دنوں مزاروں پر حملہ ہوا۔اس کے علاوہ خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں تو اپنے ہی لوگ تھے جو مرے۔فرقہ واریت نے ان لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔ہر خود کش حملہ میں اپنی قوم کے لوگ مارے جاتے ہیں، شاید ایک آدھ ان میں غیر ملکی فوجی مرتا ہو۔باقی دسیوں ان کے اپنے لوگ مارے جا رہے ہوتے ہیں۔یہ کہاں کی عقلمندی ہے، اور کون سا انصاف ہے یا کونسا اسلام ہے؟ جو عراق میں آجکل ظاہر ہورہا ہے۔ان ملکوں کی انہی حرکتوں کی وجہ سے جو مغربی طاقتیں اپنے خیال میں وہاں انصاف اور جمہوریت قائم کرنے آئی ہیں وہ فائدہ اٹھارہی ہیں۔ہر خودکش حملہ جو روزانہ وہاں ہوتا ہے ان کو وہاں سے نکالنے کی بجائے وہاں رکھنے کا kh5-030425