خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد چہارم 72 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء قرآنی پیشگوئی کے مطابق اب نو را خلاص پا ہی نہیں سکتے جب تک مسیح و مہدی کے ساتھ تعلق نہ جوڑ لیں اور ی تعلق یہ لوگ جوڑنا نہیں چاہتے۔ان سے پہلے بھی اسی طرح انتظار کرتے کرتے خالی ہاتھ چلے گئے اور یہ جائیں گے۔لیکن مسلم امہ یہ یادر کھے کہ ان کی ان باتوں میں آکر اپنی دنیا و عاقبت خراب نہ کریں۔اللہ کے حضور جب حاضر ہوں گے تو یہ جواب کام نہیں آئے گا کہ ہمارے علماء نے غلط رہنمائی کی تھی اس لئے ہمارے گناہ ان کے سر۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں تو اللہ تعالیٰ نے صاف بتا دیا ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پس سب کے لئے غور کرنے کا مقام ہے۔پھر اس زمانے کی ایک قرآنی پیشگوئی ہے۔فرمایا کہ ﴿وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ ﴾ (التكوير : 6) اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے جائیں گے۔مطلب ہے کہ وحشی قومیں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور ان میں انسانیت اور تہذیب آئے گی۔دیکھیں یہ سب قرآنی پیشگوئیاں آج کے زمانے میں پوری ہو رہی ہیں۔پھر فرمایا ﴿وَاذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴾ (التكوير : 11) یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعے عام ہوں گے۔اور کتب کثرت سے دستیاب ہوں گی۔پھر ایک نشانی ﴿وَإِذَ الْبِحَارُسُحِرَتْ (التكوير : 07 ) یعنی اور جب سمندر پھاڑے جائیں گے۔تو دیکھ لیں آجکل دریا بھی ملائے گئے ، سمندر بھی ملائے گئے ، نہری نظام قائم کیا گیا۔تو یہ سب اس زمانے کی جدید ایجادات کی وجہ سے ہے۔اور مغربی قوموں کی ترقی کے بعد ان سب چیزوں میں اور بھی زیادہ ترقی ہوئی یا دنیا میں پھیلائی گئی ہیں۔پس یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ظہور امام مہدی آخری زمانے کی نشانی اور دقبال کے آنے سے وابستہ تھا۔دجال کے آنے سے ہی مسیح نے بھی آنا تھا۔تو جب یہ نشانیاں پوری ہو رہی ہیں تو مسیح کی آمد کا ابھی تک کیوں انتظار ہے۔مسیح کو کیوں قیامت سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔صرف ایک ضد ہے، ہٹ ہے۔اللہ ہی ہے جو ان کو عقل دے۔پھر ایک حدیث ہے مسیح کی آمد کے نشان کے طور پر اور یہ ایسی حدیث ہے کہ اسے جب بھی احمدی پیش کرتے ہیں تو مخالف کے پاس کا اس کوئی رد نہیں ہوتا۔اور وہ ہے سورج اور چاند گرہن کی۔اور اس نشان کو ہم حضرت مسیح موعود کی صداقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت مرز اغلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود نہیں ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیلنج کے رنگ میں فرمایا تھا کہ یہ نشان کبھی ظاہر نہیں ہوا۔تو پھر کسی اور کا دعوئی دکھا دینا چاہئے کیونکہ نشان تو ظاہر ہو چکا ہے، دو دفعہ ظاہر ہو چکا ہے۔تو اس نشان کے دیکھنے کے بعد پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا زمانہ نہیں ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں حضرت محمد بن علی یعنی حضرت امام باقر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی kh5-030425