خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 73

خطبات مسرور جلد چهارم 73 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء صداقت کے دو نشان ایسے ہیں کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں وہ کسی کی صداقت کے لئے اس طرح ظاہر نہیں ہوئے۔اول یہ کہ اس کی بعثت کے وقت رمضان میں پہلی تاریخ کو چاند گرہن لگے گا۔اور درمیانی تاریخ کو سورج گرہن لگے گا۔اور یہ دونوں نشان کے طور پر پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔(سنن دارقطنی کتاب العيدين باب صفة صلواة الخسوف والكسوف وهيئتهما صفحه 188/1 مطبع انصاری دهلی 1310ه حدیث : 1777) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” مسیح موعود کا یا جوج ماجوج کے وقت میں آنا ضروری ہے اور چونکہ اجیج آگ کو کہتے ہیں جس سے یا جوج ماجوج کا لفظ مشتق ہے۔اس لئے جیسا کہ خدا نے مجھے سمجھایا ہے یا جوج ماجوج وہ قوم ہے جو تمام قوموں سے زیادہ دنیا میں آگ سے کام لینے میں استاد بلکہ اس کام کی موجد ہے۔اور ان ناموں میں یہ اشارہ ہے کہ ان کے جہاز ، ان کی ریلیں ، ان کی کلیں آگ کے ذریعہ سے چلیں گی۔اور ان کی لڑائیاں آگ کے ساتھ ہوں گی۔اور وہ آگ سے خدمت لینے کے فن میں تمام دنیا کی قوموں سے فائق ہوں گے۔اور اسی وجہ سے وہ یا جوج ماجوج کہلائیں گے۔سو وہ یورپ کی قومیں ہیں جو آگ کے فنوں میں ایسے ماہر اور چابک اور یکتائے روزگار ہیں کہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ اس میں زیادہ بیان کئے جائے۔پہلی کتابوں میں بھی جو بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئیں یورپ کے لوگوں کو ہی یا جوج ماجوج ٹھہرایا ہے۔بلکہ ماسکو کا نام بھی لکھا ہے جو قدیم پایہ تخت روس تھا۔سو مقر ر ہو چکا تھا کہ مسیح موعود یا جوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا۔۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 424۔425) پس ائمہ نے قرآن و حدیث سے علم پا کر بتا دیا کہ مسیح موعود اس زمانے میں ہوگا۔علماء سابقہ اور موجودہ نے کہا کہ اس زمانے کے حالات بتا رہے ہیں، مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ نبی ہونا چاہئے۔قرآن کریم نے نشانیاں بتا دیں جن میں سے بعض کا میں نے ذکر کیا ہے۔یہ آخری زمانے کی باتیں ہیں، جب یہ باتیں ہو رہی ہوں تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ مسیح موعود کا زمانہ ہی ہے۔پھر ایک روشن نشان جو چیلنج کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جس کی تشریح امام باقر نے کی ہے وہ بتایا کہ مسیح موعود کے وقت میں سورج اور چاند کا گرہن لگنا تھا۔تو پھر یہ کہنا کہ ابھی مسیح موعود کے آنے کا وقت نہیں آیا خدا کے غضب کو آواز دینے والی بات ہے۔خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ آفات ہماری غلطیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہیں۔جو آیت میں نے پڑھی ہے، اس کے آخری حصے کا جو حوالہ گزشتہ خطبہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس میں سے میں نے دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ ہم ہرگز عذاب نہیں دیتے یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں اور حجت تمام کر دیں۔تو خود ہی یہ کہہ کر کہ یہ عذاب ہیں پھر اس آیت کے اس حصے پر بھی غور کریں اور بجائے یہ کہنے کے کہ مسیح موعود کے آنے کا وقت نہیں ہوایا kh5-030425