خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 71
71 خطبہ جمعہ 03/فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم کہ اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت ﴿وَإِذَ الْعِشَارُ عُطَّلَتْ (النور: 5) سے ظاہر ہے یعنی جب 10 ماہ کی گا بھن اونٹنیاں بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔فرمایا کہ دجالی زمانے کی علامات میں جبکہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے۔بعض ایجادات اور صنعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے۔وہ ہے اس وقت اونٹنی بریکار ہو جائے گی اور اس کی کچھ قدر و منزلت نہیں رہے گی۔عیشاد حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے قیامت کا اس سے کچھ بھی تعلق نہیں۔کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جہاں اونٹ اونٹنی کو ملے اور حمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے۔جس طرح آجکل دوسری سواریاں بھی ہیں۔فرمایا: اور حمل دار ہونے کی اس لئے قید لگا دی کہ یہ قید دنیا کے واقعہ پر قرینہ ہو اور آخرت کی طرف ذرا بھی وہم نہ جائے۔یعنی دنیا پر اس کا خیال کیا جائے نہ آخرت کی طرف جانے کا۔پھر فرمایا: ﴿وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ ﴾ (التكوير : 8 ) اور جس وقت جائیں ہم ملائی جائیں گی۔یہ تعلقات اقوام اور بلا د کی طرف اشارہ ہے، مطلب یہ ہے کہ آخری زمانے میں بباعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے۔اب تو اور بھی ذرائع کھل گئے ہیں آمنے سامنے بیٹھ کر تصویروں سے بھی باتیں ہو جاتی ہیں، ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے۔فرمایا: ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دُور دُور کے رشتے اور تجارتی اتحاد ہوں گے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔تو یہ پیشگوئی اس آخری زمانے کی ہے جو آئے روز ہم پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں جو نظر آتی ہے۔فرمایا کہ: إِذَ الشَّمْسُ كُوّرَتْ ﴾ (التكوير 2 ) - جس وقت سورج لپیٹا جائے گا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی۔وَإِذَا النُّفُوْسُ زُوجَتْ ﴾ (التکویر : 8) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ بھی میرے ہی نشان تھا۔پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں۔چنانچہ مطبع کے سامان، کاغذ کی کثرت، ڈاکخانوں، تار اور ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعے گل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے۔اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہے ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہورہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء۔غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی۔الحکم جلد 6 نمبر 43 مورخہ 30 نومبر 1902ء صفحہ 1-2) میں ﴿إِذَ الشَّمْسُ كُوّرَتْ ﴾ (التکویر : 2) پر بات کر رہا تھا کہ فرمایا کہ سخت ظلمت، جہالت اور معصیت دنیا پر طاری ہو جائے گی۔پھر فرمایا وَإِذَ النُّجُومُ انْكَدَرَتْ (التکویر : 3 ) اور جس وقت تارے گدلے ہو جائیں گے۔یعنی علماء کا اخلاص جاتا رہے گا۔تو جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ علماء اس kh5-030425