خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 645
645 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم دیں۔لیکن میرا خیال ہے کہ میرا انصار اللہ کو جو جواب تھا وہ کافی اثر کر گیا اور امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اب آپ لوگ خود اپنے پاؤں پر ساری تنظیمیں کھڑی ہوں گی۔تو بہر حال میں یہ کہ رہا تھا کہ اس مسجد کی جو برلن میں مسجد انشاء اللہ شروع ہوگی۔میرے نزدیک یہ بڑی اہمیت کی حامل ہے جس کو تقریباً 86 سال بعد حالات ٹھیک ہونے پر ہم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انشاء اللہ بنائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے آج جرمنی کو پھر ایک کر کے ، دونوں جرمنی جو مغربی اور مشرقی جرمنی تھے ایک کر کے، دیوار برلن گرا کر ایسے حالات پیدا فرمائے ہیں کہ ہم وہاں مسجد بنانے کی خواہش کی تکمیل کرنے لگے ہیں انشاء اللہ۔اس لئے ایک تو یہ ہے کہ فوری حالات ابھی سازگار ہیں فوری فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے تعمیر شروع ہو جائے گی اور جلدی ختم بھی ہو جائے۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ 2 جنوری 2007 کو وہاں سنگ بنیا د رکھا جائے گا۔آپ بھی اور یہاں ایم ٹی اے کی وساطت سے دنیا کے احمدیوں سے بھی میں کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے حالات ٹھیک رکھے اور یہ سنگ بنیاد رکھا بھی جائے اور مسجد کی تکمیل بھی ہو جائے۔حکومتی اداروں کی طرف سے اللہ کے فضل سے اجازت مل چکی ہے۔لیکن مقامی لوگوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جن کو نیشنلسٹ کہتے ہیں، جو شدید مخالفت کر رہے ہیں۔چند ماہ پہلے جو علاقے کی کونسل کے لیڈرز نے سب کو اکٹھا کیا تھا کہ اس معاملے کو سلجھایا جائے تو ان لوگوں نے میٹنگ نہیں ہونے دی تھی اور اتنی شدید مخالفت کی تھی کہ ہمارے لوگ مشکل سے وہاں سے بیچ کر واپس آسکے تھے۔تو اس لحاظ سے بہت دعا کی ضرورت ہے۔گزشتہ مہینے کی بات ہے کہ آپ کے امیر صاحب جب لندن میں مجھے ملے تھے اور بڑے پریشان تھے اور کوئی فیصلہ نہیں کر سک رہے تھے کہ مسجد کی بنیاد میں رکھوں یا کس طرح رکھی جائے یا کیا کیا جائے ، جماعت بھی فیصلہ نہیں کر رہی تھی۔تو میں نے انہیں کہا انشاء اللہ تعالیٰ میں سنگ بنیاد رکھوں گا اور یہ کوئی بات نہیں کہ حالات کی وجہ سے بنیا د رکھنے کے لئے نہ جاؤں۔میں نے امیر صاحب سے کہا کہ انشاء اللہ جائیں گے اور اللہ مددفرمائے گا۔یہ سر پھروں کا جو گروہ ہے وہ ہمارے ساتھ زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا ، چند ایک پتھر پھینک دے گا۔تو یہ چیزیں ہمارے راستے میں روک نہیں بننی چاہئے۔تو امیر صاحب نے مزاقاً کہا کہ جرمن پتھر نہیں پھینکتے ،ٹماٹر مارتے ہیں۔تو بہر حال جو بھی ہوا نتظامیہ کچھ فکر مند ہے۔لیکن اگر نیک مقصد کیلئے اللہ کا گھر بنانے کیلئے اس کی عبادت کرنے کیلئے اور اس کی عبادت کرنے والے پیدا کرنے کیلئے اور اسلام کا محبت اور امن کا پیغام پہنچانے کیلئے اگر ہم اللہ کے حضور جھکتے ہوئے ، اس سے عجز سے دعائیں مانگتے ہوئے کہ وہ قادر توانا ہے جس نے ہمیں ہر آن آفات و مشکلات سے بچایا ہے مدد فرمائے اور ہم اس نیک کام کو انجام دیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔جرمن قوم عمومی طور پر اتنی سخت نہیں ہے جتنا کہ وہاں اظہار ہورہا ہے۔برلن میں جیسا اظہار کیا جارہا kh5-030425