خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 646

خطبات مسرور جلد چهارم 646 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء ہے ایک تو نیشنلسٹ ہیں وہ قوم پرست جو ہیں ہر قوم میں ہوتے ہیں۔اور مشرقی جرمنی میں ایک لمبے عرصے کے حالات کی وجہ سے ایک خاص رد عمل ہے۔وہ لوگ زیادہ کھردرے ہو چکے ہیں۔بہر حال لیکن دوسری بد قسمتی یہ ہے کہ بعض مسلمان گروپوں نے اس فضا کو اور زیادہ بگاڑا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ کسی بات کا یا کم از کم کسی مسلمان گروپ کا، جماعت کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل۔احمدی ہے جس نے اسلام کا دفاع کرنا ہے۔اللہ کے بندوں کو اللہ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے۔محبتیں بکھیرنی ہیں اور اسلام کی صحیح اور خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانی ہے۔انشاءاللہ ނ پس ایک تو مسجد بننے کے دوران بھی وہاں کے رہنے والے لوگ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو۔اگر مخالفین کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا جائے تو آپ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔کل قادیان کے جلسہ کے دوران میں نے جو تقریر کی تھی اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کا حوالہ دے کر یہی بتایا تھا کہ ہمارے لئے حکم یہی ہے کہ صبر کرو اللہ تعالیٰ وقت پر سب کچھ ظاہر فرمائے گا، آسانیاں پیدا فرمائے گا۔انگلستان میں جب ہارٹلے پول کی مسجد کی بنیا درکھی گئی اور وہاں تعمیر شروع ہوئی تو وہاں بھی بعض اسلام مخالف گروپوں نے نوجوانوں نے تعمیر کے دوران پتھر وغیرہ پھینکے تھے۔پتھر مارتے تھے، شیشے توڑتے تھے تو یہ حرکتیں وہاں بھی ہوتی تھیں۔لیکن جماعت کے نمونے اور مثبت رد عمل کی وجہ سے اردگرد کے ہمسایوں نے کچھ عرصہ کے بعد ہمارا دفاع کرنا شروع کر دیا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ہر کوئی اس بات کی تعریف کرتا ہے کہ آپ لوگوں نے ہمارے غلط تاثر کو جو اسلام کے بارے میں تھا اس کو بالکل دھو دیا ہے۔پس یہ تاثر جو یہاں بھی پیدا کیا گیا ہے یہ تو وقت کے ساتھ ساتھ انشاء اللہ زائل ہو جائے گا۔لیکن آپ لوگ کوشش کر کے اسلام کی تعلیم بھی ان لوگوں کو بتا ئیں۔یہ آپ کا فرض ہے اور بتانی ہوگی۔ان کو بتائیں کہ ہم یہ مسجد اس گھر کے نمونے اور اس مقصد کے لئے بنا رہے ہیں جو خدا کا پہلا گھر تھا اور جس کی بنیادیں رکھتے ہوئے ان باپ بیٹا نے جو دعائیں کی تھیں، وہ تھیں۔رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة: 129 ) کہ اے ہمارے رب ہم اپنے دوفر ما نبردار بندے بنادے۔ہماری ذریت میں سے بھی اپنی فرمانبردار امت پیدا کر اور ہمیں اپنی عبادتوں اور قربانیوں کے طریق سکھا۔تو ایسے بندے بنا دے جو تیرے حکموں پر چلنے والے ہوں۔تیرے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں اور تیری مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے والے ہوں محبت پیار اور امن کا پیغام دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔اور صرف ہم نہیں بلکہ ہماری اولادیں بھی ان نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی ہوں۔ہمارا مقصد تو اس گھر کی بنیاد سے، اس گھر کی تعمیر سے یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے والے بنیں۔ہمیں عبادت کے وہ طریق سکھا جس سے ہم تیرا پیار حاصل کر سکیں اور ہمیشہ ہم تیری راہ میں تیری خاطر قربانی kh5-030425