خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 644 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 644

خطبات مسرور جلد چهارم 644 خطبہ جمعہ 29 /دسمبر 2006 ء الفضل کی تعمیر میں خرچ کر دی گئی۔برلن کی مسجد کیلئے جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ بتا چکا ہوں عورتوں نے چندہ جمع کیا تھا اور بڑی قربانی کر کے انہوں نے چندہ جمع کیا تھا۔لجنہ نے اس زمانہ میں ہندوستان میں یا صرف قادیان میں، زیادہ تو قادیان میں کہنا چاہئے ہوتی تھیں، تقریباً ایک لاکھ روپیہ جمع کیا تھا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کیا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی رقم تھی ، بڑی خطیر رقم تھی اور زیادہ تر قادیان کی غریب عورتوں کی قربانی تھی جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔کسی نے مرغی پالی ہوئی ہے تو بعض مرغی لے کے آجاتی تھیں۔کوئی انڈے بیچنے والی ہے تو انڈے لے کر آ گئی۔کسی کے گھر میں بکری ہے تو وہ بیکری لے کر آ گئی۔کسی کے گھر میں کچھ نہیں ہے تو گھر کے جو برتن تھے تو وہی لے کر آ گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک دفعہ تحریک جو کی تھی میرا خیال ہے کہ یہی تحریک تھی۔فرماتے ہیں کہ میں نے جو تحریک کی تو عورتوں میں اس قدر جوش تھا کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ سب کچھ گھر کا سامان جو ہے وہ دے دیں۔ایک عورت نے اپنا سارا زیور جو تھا سارا چندے میں دے دیا۔اور گھر آئی اور کہنے لگی کہ اب میرا دل چاہتا ہے کہ ( غریب سی عورت تھی معمولی زیور تھا) کہ اب میں گھر کے برتن بھی دے آؤں۔اس کے خاوند نے کہا کہ تمہارا جوز یور تم نے دے دیا ہے کافی ہے۔تو اس کا جواب یہ تھا کہ اس وقت میرا اتنا جوش ہے کہ میرا اگر بس چلے تو تمہیں بھی بیچ کے دے آؤں۔تو گو کہ جواب صحیح نہیں ہے لیکن یہ اس جوش کو ظاہر کرتا ہے جو قربانی کیلئے عورتوں میں تھا۔حیرت ہوتی تھی اس وقت کی عورتوں کی قربانی دیکھ کر اور آج کل جو آپ اس وقت کے حالات کے مقابلے میں بہت بہتر حالات میں ہیں تو کہنا چاہئے انتہائی امیرانہ حالت میں رہ رہے ہیں۔فرق بڑا واضح نظر آتا ہے۔آپ لوگ آج شاید وہ معیار پیش نہ کر سکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جو ان لوگوں نے کئے تھے۔کچھ عرصہ ہوا آپ کے صدر صاحب انصار اللہ نے مجھے لکھا کہ انصار اللہ نے 100 مساجد کیلئے وعدہ کیا ہوا ہے۔پانچ لاکھ یا جتنا بھی تھا۔جو میں نے ٹارگٹ دیا تھا ساروں کو اور فلاں فلاں اخراجات ہو گئے ہیں اس لئے مرکز ہمیں اتنے عرصہ کے لئے کچھ قرض دے دے تا کہ انصار اللہ اپنا وعدہ پورا کر سکے۔تو میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ بالکل اس کی امید نہ رکھیں۔یہ گندی عادت جو آپ ڈالنا چاہتے ہیں اپنے آپ کو اور پھر ایک آپ کو جو یہ گندی عادت پڑے گی تو باقی تنظیموں کو بھی پڑے گی۔اس کو میں نہیں ہوتے دوں گا خود ہمت کریں، خود رقم جمع کریں۔انہوں نے وعدہ پورا کیا یا نہیں کیا مجھے نہیں پتہ لیکن بہر حال انکار ہو گیا تھا۔تو میں نے سوچا تھا کہ اگر انہوں نے زیادہ زور دیا یا کسی اور تنظیم نے لکھا تو پھر میں ان کو یہی جواب دوں گا کہ اب میں پاکستانی احمدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے ان امیر بھائی بہنوں کی مدد کریں کیونکہ یہ ہمت ہار رہے ہیں۔اور کچھ تھوڑا بہت جوڑ کر آنہ دو آنے چندہ جمع کریں اور ان لوگوں کو بھجوا kh5-030425