خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد چهارم 635 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء تھا۔تو اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔سنا ہے یہ کہانی تین سال پہلے بھی دو ہرائی گئی ہے۔تو پہلے جو کہانی تھی اس میں یہ تھا کہ اس پر خدا ناراض ہو جاتا ہے اور دیوتا ناراض ہو جاتا ہے، قوم پر بڑی تباہی آتی ہے۔اس پر بادشاہ اپنی قربانی پیش کرتا ہے تو عذاب ٹلتا ہے۔اب کیونکہ مذہب کا بھی مذاق اڑانا تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانا تھا، نشانہ بنانا تھا۔اس لئے اب کہانی میں ذراسی تبدیلی کر کے ایک یونانی دیوتا اور ایک حضرت بدھ، حضرت عیسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط قسم کی منظر کشی کر کے نہایت ظالمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔بہر حال اب کہانی کو اس ظالمانہ منظر کشی کے بعد اس طرح بدلا گیا ہے کہ بادشاہ نے قربانی نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس میں اب کہتے ہیں کہ وہ ٹھیک تھا اور انسانی عقل کو خدا کے ظالمانہ فیصلے پر غالب آنا چاہئے تھے۔اور انبیاء کو اب انہوں نے خدا تعالیٰ کے عمومی ظلموں (نعوذ باللہ ) کے اظہار کے سمبل (Symbol) کے طور پر پیش کیا ہے۔تو یہ ڈرامہ یہاں ایک دفعہ دکھایا جا چکا ہے اور چند دن تک دوسری دفعہ بھی ان کا دکھانے کا ارادہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان دنیا داروں کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اندازہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے انبیاء کی بڑی غیرت رکھتا ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں، اس نبی کی ہتک کے بھی مرتکب ہوتے ہیں جس عظیم نبی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے تجھے پیدا نہ کرنا ہوتا تو یہ زمین و آسمان پیدا نہ کرتا۔تو جس خدا کی ربوبیت اور رحمانیت کے صدقے یہ لوگ دنیاوی نعمتوں سے مالا مال ہورہے ہیں اسی پر الزام لگارہے ہیں۔جس درخت پر، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔تو ان کو کوئی کہے کہ ظالم اور ناشکرے تو تم ہواے دنیا دارو! اور عقل کے اندھو!۔مجھے پتہ چلا ہے کہ اس کو زیادہ اٹھانے والے وزراء اور بڑے لوگ ہیں کیونکہ جو تھیٹر کی ڈائریکٹر جو عورت تھی شاید اس نے ایک دفعہ اس بات کو ، اس چیز کو کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا کہ انبیاء کا حصہ کاٹ دیا جائے۔لیکن ان وزراء اور بعض لوگوں نے کہا نہیں ضرور دکھاؤ ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ان لوگوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ ان کا اپنا یہ حال ہے کہ اخلاقی برائیوں کی انتہا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔غلاظت میں مبتلا ہیں اور حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔انہوں نے تو یہ کہنا تھا کہ ایسی برائیوں کو پھیلاؤ تا کہ ان پر پردہ پڑا ر ہے۔مذہب کے تو وہ خلاف ہیں۔پھر ایک اور بات بھی اس میں عجیب ہے کہ اس میں حضرت موسی کو کہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔ہم قطعا یہ نہیں کہتے کہ ان کو بھی کرنا چاہئے تھا۔ہمارے نزدیک تمام انبیاء قابل احترام ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔لیکن ان کی نیت کا پتہ چلتا ہے کہ کیا ہے۔بعض کا یہ خیال ہے، اخباروں والوں کا بھی ، کہ یہودیوں کو اس سے ٹھیس پہنچے گی۔لیکن اتنی سی بات نہیں ہے۔میرے خیال میں اس سے بہت آگے کی kh5-030425