خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 634 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 634

خطبات مسرور جلد چهارم 634 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء ہیں۔ورنہ پہلی قو میں حق رکھتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں کہ ہمیں تو ان برائیوں کی وجہ سے سزاملی اور ہمارے بعد میں آنے والے آرام سے رہے ان کو کوئی سزا نہیں ملی۔اللہ کیونکہ مالک بھی ہے بعض کو اس دنیا میں سزا ملتی ہے بعض کو مرنے کے بعد لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ایسے لوگ پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے نیچے ضرور آتے ہیں۔یہ جو آج کل کہتے ہیں نا کہ خدا تعالیٰ ظالم ہے۔یہ خدا تعالیٰ نہیں ہے جو انبیاء کے ذریعہ سے لوگوں کی ایسی حالت کر دیتا ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں بلکہ یہ اس قماش کے وہ لوگ ہیں جو اپنے ظلموں کی وجہ سے سزا پاتے ہیں۔اگر انسانی قانون کو حق ہے جو انسان کا بنایا ہوا قانون ہے جو اکثریت کے رڈ کرنے سے تو ڑا بھی جاسکتا ہے، بدلا بھی جا سکتا ہے، کم و بیش بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف چلنے والے کو سزا ملے۔ویسے تو کہتے ہیں ہم انسانیت کے بڑے ہمدرد ہیں مثلاً یورپی ممالک میں عمر قید تو کسی شخص کو دیتے ہیں۔ایک انتہائی سزا انہوں نے اپنے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ عمر قید ہی دینی ہے۔بہر حال قانون ہے کہ کسی کو پھانسی نہیں دینی کیونکہ انسان کی جان لینا انسانیت نہیں ہے۔بہر حال جب قتل کیا جائے تو جو قتل کر دے اس کو سزا نہیں دینی اور جو قتل ہوا، مقتول کا خاندان چاہے ساری زندگی اس کے بد نتیجے بھگتار ہے۔تو بہر حال میں یہ کہہ رہا تھا کہ جب ان لوگوں کو اس بات کا حق ہے کہ مجرم کو سزا دیں، کم دیں، زیادہ دیں، جس کو بہتر سمجھتے ہیں دیں لیکن سزا دیتے ہیں۔تو وہ جو مالک کل ہے اس کو کیوں حق نہیں ہے کہ اس کا قانون توڑنے والے کو سزا دے۔لیکن یہ لوگ جو مذہب کا مذاق اڑانے والے ہیں ان کے پاس اس بات کے رو کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے یا نہیں حاصل ، اس لئے کچھ تو اس قسم کے لوگ انجانے میں اور اکثریت جان بوجھ کر مذہب کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔مذہب کی وہ بگڑی ہوئی شکل پیش کرتے ہیں جو انسان کی خود ساختہ ہے، نہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بعضوں پر اتارے گئے احکامات ہیں اور اس غلط تصویر کو پیش کر کے پھر کہتے ہیں کہ یہ وہ تعلیم ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور یہ علیم ہے جوان انبیاء کے خدا نے ان پر اتاری ہے۔پھر کہتے ہیں کہ پس ثابت ہو گیا کہ انبیاء بھی نعوذ باللہ فتنہ فساد و ظلم کرنے والے تھے اور خدا بھی ایسا ہی ہے۔اب یہاں جو او پیرا (Opera) کا میں ذکر کر رہا تھا اس میں ڈرامہ رچایا گیا ہے جس میں انبیاء کی ہتک کی گئی ہے اس میں کہانی یہ بیان کی گئی کہ ایک جہاز سمندر کے طوفان کی زد میں آگیا۔بادشاہ نے سمندر کے دیوتا کو کہا اس نے یہ دعا کی کہ اگر وہ محفوظ طریقے پر خشکی پر پہنچ گیا تو سب سے پہلے جس شخص کو دیکھے گا اس کی قربانی پیش کرے گا۔اتفاق سے سب سے پہلا شخص جس پر اس کی نظر پڑی وہ اس کا اپنا بیٹا kh5-030425