خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 636
خطبات مسرور جلد چهارم 636 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء بات ہے۔یہ اسلام کے خلاف بھی ایک بہت گہری سازش ہے۔اللہ تعالی اسلام اور احمدیت کو دشمن کے ہر شر سے بچائے۔آج دشمنوں کی ان حرکتوں کا جواب دینا اور دنیا کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔پس ان کو بتائیں ، ہر احمدی اپنے ہر جاننے والے غیر کو بتائے۔ان مسلمانوں کو بھی ہر احمدی بتائے جو فقط نام کے مسلمان ہیں کہ کیوں ان بیہودہ حرکتوں پر ہاں میں ہاں ملا کر اپنے آپ کو نجات دلانے کے بعد آگ کے گڑھے میں گرا رہے ہو۔اور عیسائیوں اور لامذہبوں اور دوسرے مذاہب والوں کو بھی بتائیں کہ انبیاء کا آنا دنیا کی ہمدردی کے لئے ہوتا ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلموں سے نکالنے کے لئے بھیجتا ہے نہ کہ ظلم کرنے کے لئے۔آؤ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہ خدا جو اسلام کا خدا ہے جس نے اپنی صفت رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے تمہاری ان ظالمانہ حرکتوں کے باوجود تمہیں نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اس کی طرف آؤ اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔اس بات کو اپنے ذہنوں سے نکالو کہ خدا تعالیٰ نعوذ باللہ کبھی ظلم کر سکتا ہے۔وہ تو انبیاء کو تمہاری ہمدردی کے لئے بھیجتا ہے تاکہ تمہیں برائیوں سے پاک کرے، جیسا کہ وہ خود انبیاء سے اعلان کرواتا ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُوْمِنِيْنَ (الشعراء: 4 ) کہ شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔ان انبیاء کی خواہش ہوتی ہے تو صرف اس قدر کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنے والے ہوں ، اپنے مقصد پیدائش کو جاننے والے ہوں تا کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے صرف دنیاوی انعامات نہیں بلکہ روحانی انعامات بھی حاصل کرنے والے بنیں۔وہ اپنی راتوں کی نیندیں لوگوں کے غم میں ہلکان کر لیتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔پس یہ اسلام کی تعلیم ہے جس میں تمہارے لئے نجات ہے اور اللہ کی رضا بھی ہے۔پس اگر کسی سمندر یا پانی یا ہوا کے خدا کا تصور ہے تو وہ تم انسانوں کا پیدا کیا ہوا تصور ہے۔اسلام کا خدا تو ایک خدا ہے۔سب طاقتوں کا مالک خدا ہے۔جو غیب کا علم بھی جانتا ہے اور حاضر کا علم بھی جانتا ہے۔اس خدا نے جو اسلام کا خدا ہے اپنی پاک تعلیم جو قرآن کریم میں اتاری ہے اس کے مطابق ہمیں یہ بتایا ہے کہ جب ایسے باغیانہ رویے رکھنے والے لوگ سمندری طوفانوں میں پھنس جاتے ہیں تو پھر مجھے یاد کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہم بچ گئے اور خشکی پر پہنچ گئے تو ضرور تیری عبادت کریں گے تو ہمیں بچالے۔لیکن جب خشکی پر پہنچتے ہیں تو پھر خدا کو بھول جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اور رحم کی وجہ سے ہی اپنے انبیاء بھیجتا ہے تا کہ اپنے بندوں کو شیطان کے چنگل سے نکالے۔اور وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم تم سے اس خدمت کا کوئی اجر نہیں مانگتے ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے kh5-030425