خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 633

633 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ڈھانک لے، اسکارف باندھ لے تو ان کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔مختلف موقعوں پر ایسا شوشہ چھوڑ کے اصل میں مسلمانوں کو ، نو جوانوں کو اسلام سے، دین سے بدظن کرنے کے لئے ، بد دلی پیدا کرنے کے لئے یہ مختلف نوعیت کے اعتراضات اسلام پر اٹھاتے رہتے ہیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا ( جس میں مغرب پیش پیش ہے ) مذہب سے دُور ہٹ رہی ہے اور ہٹنا چاہتی ہے کیونکہ ان کے پاس جو بھی مذہب ہے اس میں زندگی نہیں ہے۔زندگی دینے والا نہیں ہے انہوں نے تو بندے کو خدا بنا کر شرک میں مبتلا ہو کر آخر کو پھر اس حد تک جانا تھا جو ہم دیکھ رہے ہیں۔لیکن مسلمان کہلانے والے بھی دنیا پرستی سے یا دنیا والوں کے خوف سے یا شعوری اور لاشعوری طور پر شرک خفی یا ظاہری میں مبتلا ہو کر اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو مذہب سے اور خدا سے دور لے جانے والی منزل ہے۔ماضی میں بھی اس قبیل کے لوگ تھے جنہوں نے انبیاء کا انکار کیا، ان سے استہزا کیا، برائیوں اور شرک میں ڈوب گئے اور پھر اس کے نتیجہ میں ان پر عذاب بھی آئے۔اللہ تعالیٰ نے تو انبیاء اس لئے بھیجے تھے یا بھیجتا ہے کہ ان کو مان کر بگڑے ہوئے لوگ راہ راست پر آجائیں اور اس دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔لیکن انکار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد باوجود وارننگ کے اور باوجود سمجھانے کے اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور عذاب کے نیچے آگئی ہے۔بعض کی تاریخ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہم تک پہنچائی اور ان برائیوں کا ذکر کیا جو ان قوموں کے لوگوں میں رائج تھیں۔آج دیکھ لیں وہ کونسی برائی ہے جو گذشتہ قوموں میں تھی اور جس کا خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور آج کل کے لوگوں میں نہیں ہے اور انبیاء کے سمجھانے کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا سوائے چند لوگوں کے وہ ان برائیوں سے نہیں رکے تھے۔ان قوموں کے لوگ بے حیائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، اخلاقی برائیوں میں بڑھے ہوئے تھے، تجارتوں کی دھو کے بازیوں میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔یہ لوگ اگر چھوٹے پیمانے پر دھو کے بازی نہیں کرتے تو بڑے پیمانے پر دھو کے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔اپنے ہم قوموں سے نہیں کرتے تو غیر قوموں سے دھو کے بازیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔تو یہ سب کچھ یہاں بھی چل رہا ہے۔جھوٹ میں وہ لوگ انتہا تک پہنچے ہوئے تھے جو آج بھی ہمیں نظر آتا ہے۔شرک میں وہ لوگ بڑھے ہوئے تھے جو آج بھی ہم دیکھتے ہیں۔غرض کہ مختلف قوموں میں مختلف برائیاں ایسی تھیں جن میں وہ حد سے بڑھے ہوئے تھے اور انبیاء کے سمجھانے پر باز نہیں آتے تھے۔تو پھر جس کی مخلوق ہو جس نے کسی خاص مقصد کے لئے انسانوں اور جنوں کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔اس کے مقصد کو پورا نہیں کرو گے تو اس کے عذاب کو سہمیٹر نے والے بنو گے۔یہی منطقی نتیجہ ان حرکتوں کا نکلتا تھا اور ماضی میں نکلتا رہا اور آئندہ بھی نکلے گا اور ہم نکلتا دیکھ بھی رہے kh5-030425