خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 632 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 632

خطبات مسرور جلد چهارم 632 ا خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء کو اس سال کی بہترین کتابوں میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس کو سب سے زیادہ بکنے والی کتاب کہتے ہیں۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کی نفی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی طرح جرمنی میں بھی اسلام اور خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق لغو اور بیہودہ باتیں کی گئی ہیں جیسا کہ یہاں جب پوپ آئے تھے تو انہوں نے یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام میں خدا کے تصور کے بارے میں ہرزہ سرائی کی تھی۔ایسی باتیں کیں کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ اس مقام کے شخص بھی جو امن کے دعوی دار اور محبتیں پھیلانے کے دعویدار ہیں ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔لیکن جس آزادی کے نام پر انہوں نے باتیں کیں یا بعض لیڈروں کے بیانوں میں دیکھنے میں آتی ہیں یا مختلف اوقات میں اسلام کے بارے میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہایت گھٹیا اور دل آزار باتیں اخباروں میں لکھی جاتی ہیں۔اس آزادی نے اپنا پھیلاؤ اس حد تک کر لیا ہے کہ یہاں کے جو رہنے والے اور کچھ نہ کچھ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اس آزادی نے ان کے مذہب عیسائیت اور حضرت عیسی جو ان کے یعنی عیسائیوں کے تصور کے مطابق خدا ہے، کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اور یہاں گزشتہ دنوں اوپرا (Opera) میں جو ایک ایسا گھٹیا قسم کا ڈرامہ دکھایا گیا ہے جس پر عیسائیت یا مذ ہب سے ہٹی ہوئی اکثریت نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کو جائز قرار دیا ہے اور نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ پسند بھی کیا۔یہ ستم ظریفی اس حد تک ہے کہ بعض مسلمان تنظیموں کے لیڈروں نے بھی اس کو جائز قرار دیا اس میں ترک لیڈر بھی شامل ہیں، دوسرے بھی ہیں۔بہر حال مذہب سے لگاؤ رکھنے والا ایک عیسائی طبقہ ایسا بھی ہے اور بعض پادریوں نے بھی جب ہمارے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا، بات کی تو انہوں نے احمدیوں کے احتجاج کو جائز قرار دیا اور اس حرکت کو غلط اور دوسروں کے جذبات سے کھیلنے والی اور آزادی اظہار کے نام پر دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی قرار دیا اور خدا اور انبیاء کی عزت پر حملہ قرار دیا۔اور حقیقت بھی یہ ہے کہ آزادی کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیل کر پھر یہ کہتے ہیں کہ اس پر اعتراض کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ مغرب کی آزادی ضمیر و اظہار کے خلاف آواز اٹھا رہے ہو اور پھر ایسا شخص جو بھی یہ آواز اٹھائے گا اس کو پھر ہمارے معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔پھر جہاں تمہارا ملک ہے، وطن ہے، وہاں جاؤ۔اپنے لئے یہ لوگ بڑے حساس جذبات رکھتے ہیں۔اپنے لئے یہ اصول ہے کہ ہم جو چاہیں کریں، جس طرح آزادی سے اپنی زندگی گزارنا چاہیں گزاریں۔جس طرح چاہیں جس کو چاہیں جو مرضی کہیں۔اپنے لباس کا معاملہ آتا ہے تو جیسے چاہیں کپڑے پہنیں یا نہ پہنیں، بازاروں میں ننگے پھریں۔لیکن اگر ایک مسلمان عورت خوشی سے اپنے سر کو kh5-030425