خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 607
خطبات مسرور جلد چهارم 607 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء معلوم ہوتا تھا کہ وہ اُس وقت سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں، یعنی جب وہ عورت پانی کی وہ مشکیں لے کر آ رہی تھی تو یہ سب پانی نکالنے کے بعد بھی بجائے اس کے کہ اس کی پانی کی مشکیں خالی ہوتیں دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ بھری ہوئی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کے لئے کچھ اکٹھا کرو۔کہتے ہیں کہ اس کے لئے خشک کھجوریں اور کچھ آٹا اور کچھ ستو وغیرہ اکٹھے کئے گئے یہاں تک کہ اس کے لئے بہت ساری خوراک جمع ہو گئی۔اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کیا اور ایک کپڑے میں ڈال کر وہ کپڑا اس کے سامنے رکھ دیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتی ہو ہم نے تمہارے پانی سے کچھ بھی کم نہیں کیا لیکن اللہ ہی ہے جس نے ہمیں پلایا۔اس کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور کسی نے اس سے پوچھا کہ اے فلانی تجھے کس چیز نے روکا تھا؟ کہنے لگی عجیب بات ہوئی ہے۔مجھے دو آدمی ملے اور مجھے اس شخص کے پاس لے گئے جس کو صابی کہتے ہیں اور اس نے اللہ کی قسم ایسا ایسا کیا اور وہ اس اور اُس یعنی اس نے زمین و آسمان کی طرف اشارہ کیا، کے درمیان تمام لوگوں سے بڑھ کر جادو گر ہے۔تو دیکھیں اس بیابان میں جہاں دُور دُور تک پانی کا نشان نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو بھیج کر ان سب کیلئے پانی کا انتظام فرمایا۔تو یہ ہے اسلام کا رب جو حاجت کو پورا کرتا ہے۔پیاسوں کی پیاس بجھائی۔بظاہر اس عورت کو ایک ذریعہ بنایا تھا کہ قانون قدرت بھی استعمال ہو لیکن اس پانی میں اتنی برکت ڈالی کہ اسکے پانی کے مشکیزوں میں کمی کا کیا سوال ہے، پانی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا جس نے اس عورت کو بھی حیران کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بتادیا کہ یہ نہ سمجھو کہ ہمیں پانی مہیا کرنے والی تم ہو، نہ یہ سمجھو کہ ہم نے ظلم سے تمہارا پانی چھین لیا ہے۔یہ ایک ظاہری ذریعہ تھا جس کو ایک مومن انسان کو استعمال کرنا چاہئے ورنہ ہمیں پالنے والا اور ہماری ضروریات کو پورا کرنے والا ہمارا رب ہے جس نے ہمیں بھی پانی پلایا اور تمہیں بھی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی۔اس نے اس بات پر حیران ہو کر اپنے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ وہ ایک بہت بڑا جادوگر ہے لیکن اس کو کیا پتہ تھا کہ یہ جادو نہیں ، یہ تو رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے بندے اور اس کے ساتھیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اپنی ربوبیت کا اظہار تھا۔اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بندے میری صفات کا رنگ اختیار کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون اس میں رنگین ہوسکتا تھا۔آپ نے اس عورت کے پانی میں کمی نہ ہونے کے باوجود بلکہ زیادتی کے باوجود اس کی اس خدمت کی وجہ سے اس کے لئے کھانے کا سامان جمع کروایا جو اس کے اونٹ پر لاد دیا۔یہ بھی احسان تھا جو صفت ربوبیت کی وجہ سے ہی آپ نے کیا تھا۔تو یہ kh5-030425