خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 608
608 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم عورت اُن مسلمانوں کو پانی پلا کر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلا کر اللہ تعالیٰ کے احسان سے بھی حصہ لے گئی کہ پانی میں کوئی کمی نہ ہوئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان سے بھی حصہ لے گئی۔پھر ایک واقعہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے جس کو مختلف صفات کے ساتھ ، مختلف رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ رب کا ایک مطلب غریب کی بھوک ختم کرنے والے کا بھی ہے۔اس واقعہ کی تفصیل ہم ابو ہریرہ سے ہی سنتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ابتدائی ایام میں بھوک کی وجہ سے میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا یا زمین سے لگاتا تا کہ کچھ سہارا ملے۔ایک دن میں ایسی جگہ پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے۔میرے پاس سے حضرت ابو بکر گزرے۔میں نے ان سے ایک آیت کا مطلب پوچھا۔میری غرض تھی کہ مجھے کھانا کھلائیں گے مگر وہ آیت کا مطلب بیان کر کے گزر گئے۔پھر حضرت عمرؓ سے پوچھا وہ بھی اسی طرح گزر گئے۔کہتے ہیں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ سے بھی اس آیت کا مطلب پوچھا۔آپ نے تبسم فرمایا۔میری حالت دیکھی ،مسکرائے اور میرے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا۔آپ نے بڑے مشفقانہ انداز میں فرمایا کہ اے ابو ہریرہ ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا میرے ساتھ آؤ۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچے اور اندر جانے لگے تو کہتے ہیں میں نے بھی اندر آنے کی اجازت مانگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔آپ کی اجازت سے اندر چلا گیا۔آپ اندر گئے تو دیکھا کہ وہاں دُودھ کا ایک پیالہ پڑا ہوا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ فلاں شخص یا فلاں عورت تحفہ دے گئی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ! کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا سب صفہ میں رہنے والوں کو بلا لاؤ۔یہ لوگ اسلام کے مہمان تھے اور ان کا نہ کوئی گھر بار تھا نہ کاروبار۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کا مال آتا تو ان کے پاس بھیج دیتے اور خود کچھ نہ کھاتے اور اگر کہیں سے تحفہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفّہ والوں کے پاس بھی بھیجتے اور خود بھی کھاتے۔تو بہر حال کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں ان کو بلا لاؤں، مجھے بڑا نا گوار گزرا، ایک پیالہ دودھ کا ہے اور یہ سارے آجائیں گے تو یہ کس کس کے کام آئے گا۔میں سب سے زیادہ ضرورت مند ہوں تا کہ پی کر مجھے کچھ طاقت ملے، لیکن بہر حال حضور کا ارشاد تھا تو میں بلا لایا۔پھر کہتے ہیں کہ سب لوگ آگئے اور اپنی اپنی جگہ پر جب بیٹھ گئے تو kh5-030425