خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 606

606 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم بہر حال ربوبیت کے اس عظیم اظہار کے ذکر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روز مرہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جو نظارے ہمیں نظر آتے ہیں، اس کا میں ذکر کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بیان تو کبھی ختم نہیں ہوسکتا تاہم چند واقعات پیش کرتا ہوں۔ایک سفر کا واقعہ ہے جس کے دوران ایک قافلے نے ایک جگہ پڑاؤ کیا لیکن سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے فجر کی نماز کے لئے وقت پر کسی کی آنکھ نہیں کھلی، ساروں کی آنکھ دیر سے کھلی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے کوچ کرو، یہاں نہیں ٹھہر و۔پھر کچھ فاصلے پر جا کر وضو وغیرہ کر کے نماز پڑھی گئی۔اس کے بعد ایک صحابی نے پیاس کی شکایت کی کہ پیاس لگ رہی ہے، وہاں پانی کی کمی تھی۔آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو پانی لینے کے لئے بھیجا۔اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا انتظام فرمائے جو اپنوں کے ایمان میں بھی اضافے کا باعث بنے اور غیر کو بھی حیران کر گئے۔یہ ایک لمبی حدیث ہے، پہلے حصے کو چھوڑ کر میں اتنا حصہ لیتا ہوں۔یہ لکھا ہے کہ لوگوں نے آپ کے پاس پیاس کی شکایت کی ، آپ اترے اور کسی شخص کو آواز دی اور حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں جاؤ اور پانی ڈھونڈ کر لاؤ۔اس پر وہ دونوں چل پڑے اور ایک عورت کو اپنے اونٹ پر سوار پانی کے دو مشکیزوں یا دو پکھالوں کے درمیان بیٹھے ہوئے دیکھا اور انہوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ہے؟ تو اس نے کہا میں نے کل اس وقت وہاں پانی دیکھا تھا اور ہمارے آدمی اب پیچھے ہیں۔دونوں نے اس کو کہا کہ چلو۔اس نے پوچھا کہاں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔وہ عورت مسلمان نہیں تھی، کہنے لگی وہی جسے صابی کہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں وہی ہے، بہر حال تم چلو۔اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے اور آپ کو سارا واقعہ بتایا۔حضرت عمران کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور اس میں ان دو مشکیزوں کے دہانوں سے پانی ڈالا اور ان کے اوپر کے دہانوں کے منہ تسموں سے، ڈوری سے بند کر دیئے جس طرح پہلے بند تھے اور نیچے کے دہانے چھوڑ دیئے اور لوگوں میں اعلان کر دیا کہ پانی لے لو، پیو بھی اور پلاؤ بھی ، وہ کہتے ہیں جس نے جتنا چاہا پانی پیا اور پلایا۔آگے اس کا بیان ہے اس پانی کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا تھا، اتنی فراونی سے اس پانی کو خرچ کیا جا رہا تھا کہ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ میں ایک دن کی مسافت سے پانی لے کے آئی ہوں پتہ نہیں اب میرے پانی کا کیا بنے گا۔لیکن کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان مشکیزوں سے لوگ ایسی حالت میں ہے کہ ہمیں kh5-030425