خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد چهارم 52 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء چاہتے۔بہر حال جو بھی تعداد ہے ایک بڑے وسیع علاقے میں بڑی تباہی آئی تھی اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔جہاں جہاں تباہی آئی ہے، جو بچے ان کی آباد کاری کے لئے بھی ایک بڑا لمبا عرصہ درکار ہے۔حکومتوں کی انٹر نیشنل ایجنسیز جو مدد کرتی ہیں، ان کے علاوہ کئی این جی اوز بھی کام کر رہے ہیں۔شروع میں انہوں نے بہت کام کیا لیکن کیونکہ لمبا عرصہ کام کرنا پڑ رہا تھا، اپنے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کئی تو بیچ میں چھوڑ کر چلی گئیں اور لوگ بیچارے موسم کی شدت کی وجہ سے اور عارضی رہائش، خیموں وغیرہ کی وجہ سے سردی کا شکار بھی ہورہے ہیں، بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ایک خبر کے مطابق برف باری اور بارشوں کی وجہ سے اب مزید ہزاروں موتوں کا خطرہ ہے۔ہم تو دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔جماعت ہیومینیٹی فرسٹ (Humanity First) کے ذریعہ سے جو ایک مدد کرنے کا ادارہ ہے جس میں بہت بڑا بلکہ 99 فیصد حصہ جماعت کے افراد کا ہے۔جو مد تھی چاہے وہ رقم کی تھی یا کپڑوں لباس یا دوسروی اشیاء کی مد تھی اس علاقے میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔پہلے حکومت نے ان کو تھوڑا سا کام دیا تھا لیکن اب حکومت کی وہاں خواہش تھی اور انہوں نے زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ ایک نیورو سینٹر قائم کیا جائے جس میں ہیومینٹی فرسٹ ان کی مدد کرے۔بہر حال اپنے وسائل کے لحاظ سے جس حد تک ہوسکتا ہے کریں گے کیونکہ زلزلے میں جو نقصان پہنچا، جو صدمے لوگوں کو پہنچے اس کی وجہ سے اعصابی بیماریوں کے افراد بھی بہت زیادہ ہیں۔پھر 2005ء میں ہی امریکہ میں سمندری طوفان کی وجہ سے ایک بہت بڑی تباہی آئی ، پھر اور ملکوں میں سیلابوں وغیرہ کے ذریعہ سے تباہیاں آئیں، ویانا وغیرہ میں بھی، ان جگہوں پر بھی ہیومینیٹی فرسٹ نے بہت کام کیا ہے۔اور جہاں بھی کام کیا احمدی کیونکہ بڑا لگ کر کام کرتا ہے ان کے کام کو سراہا گیا تو بہر حال انسانیت کے رشتے کے ناطے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ خدمت انسا نیت کریں اور اس کے لئے کسی سے ہمیں اجر نہیں لینایہ تو ہمارے فرائض سے تعلق رکھنے والی بات ہے، فرائض میں شامل ہے۔کئی احمدی ان تباہیوں اور زلزلوں کو دیکھ کر یہ بھی سوال کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ اس زلزلے میں تو کئی معصوم جانیں بھی ضائع ہو گئیں اور بعض احمدی کہتے ہیں اگر یہ عذاب تھا تو جو لوگ شرارتی تھے، ظالم تھے ان پر آنا چاہئے تھا معصوم بچے عورتیں کیوں اس کا شکار ہو گئیں۔اس قسم کے سوالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اُس زمانے میں کئے گئے تھے جب زلزلے آئے تھے۔خاص طور پر جب 1905 ء میں کانگڑہ کا زلزلہ آیا یا اور دوسری آفات دوسرے ملکوں میں آئیں، امریکہ وغیرہ میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان آفات پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دیئے ہوئے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود کے حوالے سے جواب دینے سے پہلے گزشتہ سال جو زلزلہ پاکستان اور کشمیر میں آیا اس پر مختلف پاکستانی اخباروں میں علماء کی جو آراء اور بیانات آئے ہیں اور وہ مجھے اکٹھے کر کے دئے گئے ہیں ( پہلے بھی kh5-030425