خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 53
خطبات مسرور جلد چهارم 53 خطبہ جمعہ 27 / جنوری 2006 ء قسم کی ملک میں آفات آتی رہی ہیں ان پر لوگ لکھتے رہے ہیں ) وہ میں آپ کو بتاؤں گا۔اس سے پتہ چل جائے گا کہ عام طور پر مسلمانوں کی اور ملک کی جو حالت ہے اس پر یہ علماء کیا رائے دیتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے اپنے عمل کیا ہیں۔اس حالیہ زلزلے کے بارے میں بعض سوال جیسا کہ میں نے کہا اخباروں نے اٹھائے اور ملک کے غیر از جماعت علماء کے سامنے رکھے۔روز نامہ پاکستان کی ایک خصوصی اشاعت شائع ہوئی تھی اس میں وہ لکھتا ہے کہ حالیہ تباہ کن زلزلے نے ہر طرف تباہی پھیلا دی ہے، ہر طرف سے چیخوں اور سکیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ہنستے بستے گھرانے نیست و نابود ہو گئے ہیں۔جہاں کل تک قہقہے بلند ہوتے تھے وہاں موت کا گھمبیر سناٹا طاری ہو چکا ہے۔انسانیت بلبلا رہی ہے، آدمیت ماتم کر رہی ہے، الفاظ مرثیوں کا روپ دھار چکے ہیں۔آنکھوں کے آنسو تمام تر بہہ چکے اور چہروں کے رنگ اڑ چکے ہیں۔لکھتا ہے کہ شدید ترین زلزلے نے جہاں بہت جانی اور مالی نقصان کیا وہاں بہت سے سوالات تبھی پیدا کر دیئے ہیں۔کیا سوال پیدا کئے ؟ کہتے ہیں کہ کیا یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے؟ کیا یہ ہماری آزمائش ہے، اگر یہ آزمائش تھی تو پھر ایک ہی علاقے میں کیوں، اعمال کی سزا ہے تو معصوم لوگ کیوں ہلاک ہوئے؟ کیا یہ زلزلہ حضرت عیسی کی آمد کی نشانی ہے؟ تو انہوں نے مختلف علماء کو دعوت دی کہ ان کے جواب دیں تو اس فورم میں جو لوگ آئے اور جو بیان دیئے ان میں سے چند ایک میں یہاں رکھتا ہوں۔سابق صوبائی وزیر مذہبی امور اوقاف زکوۃ وعشر ، ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری، ایک معروف اسلامی سکالر ہیں ، افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالیہ زلزلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عبرتناک ، بہت بڑی تنبیہ، ایک بہت بڑا سبق ہے۔عوام، سیاستدان علماء و حکمران اس سے سبق سیکھیں۔عوام کے لئے تو اس لئے کہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مسلمان ہو کر کلمہ پڑھ کر اپنی حرکتوں سے اسلام اور کلمہ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔نہ حقوق اللہ کی فکر کرتے ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کا احساس کرتے ہیں، اور جو کلمہ پڑھنے والے اور اس کو سمجھنے والے اور اس کا فہم و ادراک رکھنے والے ہیں ان کو تو انہوں نے ویسے ہی خارج کر دیا ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ علماء کے لئے زلزلہ لمحہ فکریہ ہے کہ جو آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کر کے ملک کو قرآن وسنت کے نظام کا گہوارہ بنانے کی بجائے فرقہ وارانہ تعصب پھیلاتے ، ایک دوسرے کو کافرو مشرک قرار دیتے ہیں۔یہاں تک کہ ان میں بعض فرقوں کے لوگ مذہبی جنون میں اس حد تک مبتلا ہو جاتے ہیں کہ مخالف فرقے کے افراد کے قتل جیسے بدترین گناہ کو بھی ثواب تک ٹھہرا لیتے ہیں۔حکمرانوں کے لئے یہ نا گہانی آفت عبرت ولمحہ فکر یہ ہے کہ حکمرانوں نے حصول پاکستان کا مقصد بھلا ڈالا اور انہیں عوام کی تکلیفوں کا احساس تک نہیں رہا۔انہیں اقتدار کا تحفظ تو عزیز ہے مگر عوام کی جان و مال ، عزت و آبرو کا تحفظ عزیز نہیں ہے۔kh5-030425