خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 51
خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006ء 51 4 خطبات مسرور جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور جماعت کے قیام کے بعد زلازل اور طوفانوں اور آفات ارضی و سماوی کی کثرت پیشگوئیوں کے عین مطابق ہے فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2006 ء ( 27 صلح 1385 ھش ) بیت الفتوح ، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرى بِظُلْمٍ وَاهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ﴾ ( ہود آیت 118) قادیان کے سفر پر جانے سے پہلے مجھے ایک احمدی کا خط ملا کہ آپ جلسے پر قادیان جا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ یہ سفر ہر لحاظ سے مبارک کرے لیکن یہ دعا بھی کریں کہ اس سال ان دنوں میں کوئی آسمانی آفت کوئی تباہی یا زلزلہ وغیرہ نہ آئے۔یہ ڈر شاید لکھنے والے کا اس لئے تھا کہ گزشتہ دو سالوں میں یعنی 2003 ء میں بھی اور 2004ء میں بھی عین انہیں دنوں میں جب قادیان کا جلسہ ہورہا ہوتا ہے اس کی گہما گہمی ہوتی ہے دو مسلمان ملکوں میں زلزلے کی وجہ سے بڑی تباہی آئی۔ایک جگہ ہزاروں اور دوسری جگہ لاکھوں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور وہ لقمہ اجل بنے۔2003ء میں ایران میں زلزلہ آیا تھا اور 2004ء میں انہیں دنوں میں انڈونیشیا میں جو سب سے بڑا اسلامی ملک سونامی (Tsunami) آیا جس نے بہت زیادہ نقصان کیا۔اس کا نقصان کئی اور ملکوں اور ساتھ کے ہمسایہ جزیروں میں بھی ہوا۔پھر 8 اکتوبر 2005 ء کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اور خاص طور پر کشمیر میں انتہائی خوفناک زلزلے کی وجہ سے تباہی پھیلی۔اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً 87 ہزار بتائی جاتی ہے۔لیکن بعض کہتے ہیں اس سے بھی زیادہ تھی۔خبروں سے پتہ لگتا ہے کہ صحیح اندازے، صحیح اعداد و شمار تو ابھی تک معلوم نہیں ہوئے، یا بتانا نہیں kh5-030425