خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 581 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 581

خطبات مسرور جلد چهارم 581 خطبہ جمعہ 17 /نومبر 2006 ء کا یہ کام ہے کہ اپنے رب کی صحیح پہچان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی یہ بتائیں کہ اُن مضبوط ایمان والوں کے اپنے رب کے ساتھ چمٹے رہنے کا نتیجہ تھا کہ آج عیسائیت دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔اس لئے اپنے خدا کی جو رب العالمین ہے پہچان کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے انبیاء کی صحیح تعلیم پر غور کرو، ان پیشگوئیوں پر غور کرو اور اس خاتم الانبیاء کو پہچانو جس کے بارے میں پیشگوئی تھی۔یہی تمہاری نجات کا ذریعہ ہے، یہی تمہاری بے چینیوں کو دور کرنے کا حل ہے کیونکہ اس کے بغیر تمہاری زندگیوں میں سکون نہیں آسکتا۔اور جیسا کہ میں پہلے وضاحت کر آیا ہوں کہ رب العالمین کے ماننے والے صرف اپنی بھلائی نہیں سوچتے بلکہ دوسروں کو بھی نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔پھر اس کے بعد رب العالمین کا لفظ ہے۔جیسا پہلے بیان کیا گیا ہے اللہ وہ ذات ( متجمع ) جميع صفات کا ملہ ہے جو تمام نقائص سے منزہ ہو اور حسن اور احسان کے اعلی نکتہ پر پہنچا ہوا ہو۔“ یعنی تمام صفات اس میں مکمل طور پر جمع ہیں اور اس کی خوبصورتی انتہائی نقطہ کو پہنچی ہوئی ہے تا کہ اس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی عبادت کریں۔اس لئے پہلی خوبی احسان کی صفت رب العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے، جس کے ذریعہ سے کل مخلوق فیض ربوبیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے ،مگر اس کے بالمقابل باقی سب مذہبوں نے جو اس وقت موجود ہیں اس صفت کا بھی انکار کیا ہے۔مثلاً آریہ جیسا ابھی بیان کیا ہے یہ اعتقادر کھتے ہیں کہ انسان کو جو کچھیل رہا ہے وہ سب اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور خدا کی ربوبیت سے وہ ہرگز ہرگز بہرہ ور نہیں ہے، کیونکہ جب وہ اپنی روحوں کا خالق ہی خدا کو نہیں مانتے اور ان کو اپنے بقاو قیام میں بالکل غیر محتاج سمجھتے ہیں، تو پھر اس صفت ربوبیت کا بھی انکار کرنا پڑا۔ایسا ہی عیسائی بھی اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ وہ مسیح کو اپنا رب سمجھتے ہیں اور رَبُّنَا الْمَسِيحَ رَبُّنَا الْمَسِيحِ کہتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جَمِيعَ مَا فِي الْعَالَم کا رب نہیں مانتے یعنی اللہ تعالیٰ کو پوری دنیا ، گل عالم ، گل کا ئنات کا رب نہیں مانتے۔بلکہ مسیح کو اس کے فیض ربوبیت سے باہر قرار دیتے ہیں اور خود ہی اس کو رب مانتے ہیں۔اسی طرح پر عام ہندو بھی اس صداقت سے منکر ہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک چیز اور دوسری چیزوں کو رب مانتے ہیں۔بر ہم سماج والے بھی ربوبیت تامہ کے منکر ہیں۔کیونکہ وہ یہ اعتقا در کھتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ کرنا تھا۔kh5-030425