خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد چهارم 580 خطبہ جمعہ 17 نومبر 2006 ء نے قرآن کریم میں سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک تقریبا تمام سورتوں میں ہی مختلف مقامات پر اپنی ربوبیت کا حوالہ دے کر احکامات دیئے ہیں یا دعا ئیں سکھائی ہیں۔یہ سب باتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہر احمدی ستوں کو دور پھینکے ، اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق جوڑے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔کسی قسم کی تکلیف اور عارضی روکوں سے کسی احمدی کے قدموں میں کبھی لغزش نہ آئے۔دیکھیں تکلیفوں کا جہاں تک ذکر ہے اس کے بارے میں بھی قرآن کریم نے اصحاب کہف کے بارے میں بتایا۔اور قرآن کریم کے جو سیپارے ہیں اگر ان کی ترتیب دیکھی جائے تو یہ سورۃ قرآن کریم کے تقریبا نصف میں آتی ہے، اس میں انہیں لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے رب کی خاطر ، واحد و یگانہ رب کی خاطر تکلیفیں اٹھا ئیں، ظلم سے قبل ہوئے لیکن ہمیشہ اپنے رب کی پہچان کی ، اس کے آگے جھکے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنے۔تو ایک تو ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم مسیح محمدی کے ماننے والے ہیں ہمیں اپنے رب کے ساتھ تعلق میں بہت مضبوط ہونا چاہئے۔مشکلات کے جو حالات اصحاب کہف پر آئے اس کا تو کچھ بھی حصہ ہمارے حصہ میں نہیں آیا۔لیکن انہوں نے ان حالات کے باوجود اپنے رب کو نہیں چھوڑا۔ہم تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے دین کامل کیا ہے۔جہاں احمدیت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے وہاں بھی دوراتنا مشکل نہیں ہے جو دوران پر آئے تھے یا مختلف اوقات میں آتے رہے۔اکثر احمدی جو ہیں وہ بڑے آسان اور آرام دہ حالات میں گزارا کر رہے ہیں اس لئے ہمیں سب سے زیادہ اپنے رب کی پہچان کرتے ہوئے ، اس کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے اس کی طرف ہمیشہ جھکے رہنا چاہئے۔ہمیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے دین کامل کیا۔ہمیں اُن لوگوں سے زیادہ اپنے رب کا فہم و ادراک دیا جتنا اصحاب کہف کو تھا۔تو اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بڑھ کر ہماری مدد کرنے والا ہے ہر احمدی کو اپنے رب سے تعلق میں بڑھتے چلے جانا چاہئے۔عسر اور کیسر تنگی اور آسائش ہر حالت میں یہ رب ہی ہے جس سے ہماری ترقیات وابستہ ہیں۔پس ہر احمدی کو اس صفت پر غور کرتے ہوئے اپنے رب سے تعلق مضبوط تر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوسرے ان مغربی ممالک میں ، بلکہ اب تمام دنیا میں ہی جو لوگ اپنے خدا کو بھولتے جارہے ہیں، ایک خدا کو چھوڑ کر ، جس کو اختیار کرنے کی وجہ سے ان کو انعام ملا تھا، تین خداؤں کے چکر میں آگئے اور پھر نتیجہ مذہبی طور پر عملاً ایک طرح سے دیوالیہ ہو گئے ، جو کہ ظاہر ہے اس حالت میں ہونا تھا اور پھر ان میں سے بہت بڑی تعداد خدا کی بھی منکر ہوگئی۔تو مسیح محمدی کے ماننے والوں kh5-030425