خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 574
574 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو۔بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لا تَهْلِه یعنی تم میں سے بہتر وہ انسان ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آوے اور حسن معاشرت کے لئے اس قدر تاکید ہے کہ میں اس خط میں لکھ نہیں سکتا۔عزیز من، انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالے کر دیا۔اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔نرمی برتنی چاہئے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمانداری بجالاتا ہوں۔اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے مجھے اس پر کون سی زیادتی ہے۔خونخوار انسان نہیں بننا چاہئے۔بیویوں پر رحم کرنا چاہئے۔اور ان کو دین سکھلانا چاہئے۔اور در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔میں جب کبھی اتفاقا ایک ذرا درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صد ہا کوس سے میرے حوالہ کیا ہے شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دیں۔اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔سومیں امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدرا اپنی بیویوں سے حلم کرتے تھے۔زیادہ کیا لکھوں۔والسلام“۔الحکم جلد 9 نمبر 13 مورخہ 17 اپریل 1905 صفحہ 6 اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا پر چلاتے ہوئے ان خوبصورت اعمال کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتائے۔kh5-030425