خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 573 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 573

خطبات مسرور جلد چهارم 573 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 2006 ء کام لیں، قول سدید سے کام لیں تو یہ چیزیں کبھی پیدا نہیں ہوں گی۔آپ جو نا جائز حق لے رہے ہیں وہ جھوٹ ہے اور جھوٹ کے ساتھ شرک کے بھی مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میرے سے ناجائز فیصلہ کروا لیتے ہو تو اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہو۔تو تقویٰ سے دور ہوں گے تو پھر یقینا شرک کی جھولی میں جاگریں گے۔پس استغفار کرتے ہوئے اللہ سے اس کی مغفرت اور رحم مانگیں، ہمیشہ خدا کا خوف پیش نظر رکھیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ بعض ماں باپ بچوں کو دوسرے ملک میں لے گئے یا انہیں چھپا لیا یا کورٹ سے غلط بیان دے کر یا دلوا کر بچے چھین لئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والدہ کو اس کے بچے کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے ، اور نہ والد کو اس کے بچے کی وجہ سے دکھ دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ سے کام نہیں لو گے اور ایک دوسرے کے حق ادا نہیں کرو گے تو یا درکھو اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز جانتا ہے۔وہ جانتا بھی ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔اور اللہ پھر ظالموں کو یوں نہیں چھوڑا کرتا۔پس اللہ سے ڈرو، ہر وقت یہ پیش نظر رہے کہ جس طرح آپ پر آپ کی ماں کا حق ہے اسی طرح آپ کے بچوں پر ان کی ماں کا بھی حق ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اور جائزہ میں بھی سامنے آیا عموماً با پوں کی طرف سے یہ ظلم زیادہ ہوتے ہیں۔اس لئے میں مردوں کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اپنی بیویوں کا خیال رکھیں۔ان کے حقوق دیں۔اگر آپ نیکی اور تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں تو الا ماشاء اللہ عموماً پھر بیویاں آپ کے تابع فرمان رہیں گی۔آپ کے گھر ٹوٹنے والے گھروں کی بجائے ، بننے والے گھر ہوں گے جو ماحول کو بھی اپنے خوبصورت نظارے دکھا رہے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک صحابی کو نصیحت کا ایک خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : باعث تکلیف دہی ہے کہ میں نے بعض آپ کے بچے دوستوں کی زبانی جو درحقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں سنا ہے کہ امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہئے کسی قدر آپ مدت رکھتے ہیں۔یعنی غیظ و غضب کے استعمال میں بعض اوقات اعتدال کا اندازہ ملحوظ نہیں رہتا۔میں نے اس شکایت کو تعجب کی نظر سے نہیں دیکھا کیونکہ اول تو بیان کرنے والے آپ کی تمام صفات حمیدہ کے قائل اور دلی محبت آپ سے رکھتے ہیں۔اور دوسری چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قسام ازلی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ سی باتوں میں تادیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ آپ جیسے رشید اور سعید کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسے معاشرت کرو جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ kh5-030425