خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 575

خطبہ جمعہ 17 نومبر 2006 ء 575 (46) خطبات مسرور جلد چهارم تمام دنیا میں لوگ اپنے خدا کو بھولتے جارہے ہیں۔مسیح محمدی کے ماننے والوں کا کام ہے کہ اپنے رب کی صحیح پہچان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی ربّ العالمین کی پہچان کروائیں فرمودہ مورخہ 17 نومبر 2006 ء(17 رنبوت 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رب ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس صفت کا اظہار اور اعلان قرآن کریم کی پہلی ہی سورۃ میں فرمایا ہے اور بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العالمین یعنی ہر قسم کی تعریف کا اللہ تعالیٰ ہی مستحق ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔رب کے معنی مفسرین نے اور اہل لغت نے بڑی تفصیل سے بیان کئے ہیں جس میں پیدا کرنے سے لے کر کسی چیز کے درجہ کمال تک پہنچانے کے درمیان جتنے بھی ادوار ہیں ان سب کو یہ لفظ اپنے اندر سمیٹتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر کبیر میں مختلف روایات کے حوالے سے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔مثلاً مفردات کے حوالے سے یہ درج ہے کہ رب کے معنی کسی چیز کو پیدا کر کے تدریجی طور پر کمال تک پہنچانے کے ہیں۔عربی زبان میں بعض دفعہ رب کا لفظ انسان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اگر انسان کی طرف منسوب ہو تو صرف تربیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں یہ لفظ ماں باپ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور یہ دعا سکھائی گئی ہے۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّنِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل : 25) کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما کیونکہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ، میری تربیت کی۔kh5-030425