خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 560

560 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم پھر آگے فرماتے ہیں کہ مرتے تو سب ہی ہیں اور کوئی نہیں جو الہی مقررہ عمر سے زیادہ زندہ رہ سکے۔مگر مبارک ہے وہ جو کسی نہ کسی رنگ میں دین کی حمایت کرتے ہوئے مارا جائے۔شریف دوتسا کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ یورپ کے پہلے احمدی شہید ہیں اور الْفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّمِ کے مقولہ کے ماتحت اپنے بعد میں آنے والے شہداء کے لئے ایک عمدہ مثال اور نمونہ ثابت ہو کر وہ ان کے ثواب میں شریک ہوں گے۔پھر فرمایا کہ یہ واقعہ ہمارے لئے تکلیف دہ بھی ہے اور خوشی کا موجب بھی۔تکلیف کا موجب اس لئے کہ ایک با رسوخ آدمی جو جنگ کے بعد احمدیت کی اشاعت کا موجب ہو سکتا تھا ، ہم سے ایسے موقعہ پر جدا ہو گیا جب ہماری تبلیغ کا میدان وسیع ہورہا تھا اور خوشی کا اس لئے کہ یورپ میں بھی احمدی شہداء کا خون بہایا گیا۔وہ مادیت کی سرزمین جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دور بھاگ رہی تھی اور وہ علاقہ جو کیمونزم کے ساتھ دہریت کو بھی دنیا میں پھیلا رہا تھا وہاں خدائے واحد کے ماننے والوں کا خون بہایا جانے لگا ہے۔یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔اس کا ایک ایک قطرہ چلا چلا کر خدا تعالیٰ کی مدد مانگے گا۔اس کی رطوبت کھیتیوں میں جذب ہو کر وہ غلہ پیدا کرے گی جو ایمان کی راہ میں قربانی کرنے کے لئے گرم اور کھولتا ہوا خون پیدا 66 کرے گا۔پھر فرمایا ” اب یورپ میں توحید کی جنگ کی طرح ڈال دی گئی ہے۔مومن اس چیلنج کو قبول کریں گے اور شوق شہادت میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہو۔اور سعادت مندوں کے سینے کھول دے۔فرماتے ہیں ”اے ہندوستان کے احمد یو! ذرا غور تو کرو تمہاری اور تمہارے باپ دادوں کی قربانیاں ہی یہ دن لائی ہیں۔تم شہید تو نہیں ہوئے مگر تم شہید گر ضرور ہو۔افغانستان کے شہداء ہندوستان کے نہ تھے۔مگر اس میں کیا شک ہے کہ انہیں احمدیت ہندوستانیوں ہی کی قربانیوں کے طفیل حاصل ہوئی۔مصر کا شہید ہندوستانی تو نہ تھا مگر اسے بھی ہندوستانیوں ہی نے نور احمدیت سے روشناس کروایا تھا۔اب یورپ کا پہلا شہید گو ہندوستانی نہ تھا مگر کون تھا جس نے اس کے اندر اسلام کا جذبہ پیدا کیا۔کون تھا جس نے اسے صداقت پر قائم رہنے کی ہمت دلائی؟ بے شک ایک ہندوستانی احمدی۔اے عزیز و! فتح تمہاری سابق قربانیوں سے قریب آ رہی ہے۔مگر جوں جوں وہ قریب آرہی ہے تمہاری سابق قربانیاں اس کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔نئے مسائل نئے زاویہ نگاہ چاہتے ہیں۔نئے اہم امور ایک نئے رنگ کی قربانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔۔پھر آپ نے فرمایا ”پس اے عزیز و! کمریں کسی لو اور زبانیں دانتوں میں دبا لو۔جو تم میں سے قربانی کرتے ہیں وہ اور زیادہ قربانیاں کریں۔اپنے حوصلہ کے مطابق نہیں، دین کی ضرورت کے مطابق اور جو kh5-030425