خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 561 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 561

خطبات مسرور جلد چهارم 561 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء نہیں کرتے قربانی کرنے والے انہیں بیدار کریں۔اور تحریک جدید میں زیادہ شامل کریں۔روزنامه الفضل قادیان دا رالامان مورخہ 12 جولائی 1946ء) اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے براہ راست مخاطب ہندوستان کے احمدی تھے جن کی اکثریت تھی اور اس وقت احمدیوں کی اکثریت تھی بھی ہندوستان میں سے، وہیں خطبہ نشر ہوتا تھا۔ایم ٹی اے کا کوئی نظام تو تھا نہیں۔یہ 1946 ء کی بات ہے، اس کے بعد ان کی اکثریت پاکستان میں آباد ہو گئی یا ان کی اولادیں اس وقت پاکستان میں آباد ہیں یا اس وقت ان میں سے بعض کی اولادیں مغربی ممالک میں آکر آباد ہو گئی ہیں یا آباد ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔تو پاکستان میں رہنے والے احمدیوں نے آج بھی اس پیغام کو یاد رکھا ہوا ہے۔جیسا کہ میں نے ادائیگیوں کی صورتحال اور ا۔پوزیشن بتائی ہے، اس سے واضح ہے۔باوجود غربت کے، باوجود روپے کی ویلیو (Value) نہ ہونے کے انہوں نے اتنا بڑا قربانی کا ایک معیار قائم کیا ہے کہ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ پیغام دیا اس وقت شاید احمدیت کے نام پر ہندوستان میں کوئی احمدی شہید نہیں ہوا تھا۔لیکن اس کے بعد اس پیغام کے سننے والوں میں سے بھی بعض شہداء کی صف میں شامل ہو گئے اور بے خوف و خطر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دیئے اور ان کی اولادوں میں سے بھی بہت سوں نے اللہ کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں اور ابھی تک کرتے چلے جا رہے ہیں۔اور جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ اپنی جانوں کے ساتھ اپنے مال بھی بے دریغ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔پس ان لوگوں کی اولادوں اور ان خاندانوں سے وابستہ احمدیوں کو جو آج دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں اور مالی لحاظ سے بہت بہتر ہیں، ہمیں اس طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور آپ بھی ان انعامات کے وارث تبھی ٹھہریں گے جب اپنی قربانیوں کے معیار میں بہتری پیدا کریں گے اور اس روح کو اپنے اندر قائم کریں گے کہ آج دنیا میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کے لئے ہم نے ہر قسم کی قربانیاں دینی ہیں۔اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کے مقامی باشندوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ آپ نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ میں سے بہت سوں نے ہر قسم کی قربانیوں کے اعلیٰ ترین معیار بھی قائم کئے ہیں تو اپنے ہم وطنوں میں جو احمدیت قبول کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں آگئے ہیں یہ روح پیدا کریں کہ اگر پہلوں سے ملنا ہے تو پھر آخرین کی جماعت کے لئے ان قربانیوں کو بھی ہنسی خوشی پیش کرنا ہوگا جن قربانیوں کا اللہ تعالیٰ ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بڑھ چڑھ کر اپنے مالوں کو kh5-030425