خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 559 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 559

خطبات مسرور جلد چهارم 559 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء مبلغین کے لئے بھی میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ یہ فوری فیصلہ ہوا کہ بشارت احمد صاحب نسیم کو غانا بھجوانا ہے۔ان کو صرف چند گھنٹوں کا وقت ملا کہ چند گھنٹوں میں تیار ہوں اور غانا کے لئے روانہ ہو جائیں۔آجکل ہوتا ہے کہ ہمیں اتنی تیاری کا وقت مل جائے، یہ ہو، وہ ہو۔تو بہر حال یہ لوگ بڑی قربانیاں کرنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس میں پڑھنا چاہتا ہوں۔فرماتے ہیں۔” میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے۔اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔سو میں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر میں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم اور برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خدا تعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 516) ایک تاریخی واقعہ ہے جو میں بتانا چاہتا ہوں، جس کا ہم میں سے بہتوں کو علم نہیں ہو گا اور دعا کی بھی تحریک ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس ملک میں احمدیت کو جلد پھیلائے۔1946ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے الفضل میں ایک اعلان شائع ہوا تھا، اس کا کچھ حصہ میں پڑھتا ہوں۔فرماتے ہیں۔اٹلی سے عزیزم ملک محمد شریف صاحب مبلغ نے اطلاع دی ہے کہ شریف دو تسا ایک البانوی سرکردہ اور رئیس جو البانیہ اور یوگوسلاویہ دونوں ملکوں میں رسوخ اور اثر رکھتے تھے ( دونوں ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں اور البانیہ کی سرحد پر رہنے والے یوگوسلاویہ کے باشندے اکثر مسلمان ہیں اور بارسوخ ہیں۔اور دونوں ملکوں میں ان کی جائیدادیں ہیں۔عزیزم مولوی محمد الدین صاحب اس علاقے میں رہ کر تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ان کے ذریعہ سے وہاں کئی احمدی ہوئے ، بعد میں مسلمانوں کی تنظیم سے ڈر کر انہیں یوگوسلاو بین حکومت نے وہاں سے نکال دیا اور وہ اٹلی آگئے ) اور جو یوگوسلاویہ کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی طرف سے نمائندے تھے، جنگ سے پہلے احمدی ہو گئے تھے اور بہت مخلص تھے۔انہیں البانیہ کی موجودہ حکومت نے جو کیمونسٹ ہے، ان کے خاندان سمیت قتل کروا دیا ہے۔ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ کیمونسٹ طریق حکومت کے مخالف تھے اور جو مسلمان اس ملک میں اسلامی اصول کو قائم رکھنا چاہتے تھے ان کے لیڈر تھے۔انا لله وانا اليه راجعون“۔kh5-030425