خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 503
خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء 503 40 خطبات مسرور جلد چهارم دعازبانی بک بک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے یہ مہینہ خاص بخشش اور قبولیت دعا کا مہینہ ہے ان دنوں میں خاص طور پر ہر احمدی کو دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے خطبه جمعه فرموده 6 اکتوبر 2006ء (6 را خاء 1385 ش) بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (سورة البقره : 187) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔مگر یہ یاد رکھو کہ یہ دعا زبانی بک بک کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الوہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لئے قومی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے اور یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اس کو موت کہ سکتے ہیں۔جب یہ حالت میسر آ جاوے تو یقینا سمجھو کہ باب اجابت اس کے لئے کھولا جاتا ہے اور خاص قوت اور فضل اور استقامت بدیوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقلال کے لئے عطا ہوتی ہے۔یہ ذریعہ سب سے بڑھ کر زبر دست ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 203 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس دعا کا طریق یہ ہے کہ اپنے پر ایسی حالت طاری کی جائے کہ یہ احساس ہو کہ اب میں اللہ تعالیٰ kh5-030425