خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 504

504 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کے حضور اسی طرح پہنچ گیا ہوں کہ جس طرح قبولیت دعا یقینی ہے۔پہلے میں کئی بزرگوں کے واقعات سنا چکا ہوں کہ فلاں کے لئے دعا کی یا فلاں وقت دعا کی تو ایسی حالت طاری ہوگئی کہ یقین ہو گیا کہ اب میری دعا قبول ہو گئی۔رمضان کے اس مہینے میں جب عبادت کی طرف ایک خاص رجحان ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی طرف خاص طور پر متوجہ ہوتا ہے۔وہ فرماتا ہے کہ روزے دار کی جزا میں خود ہو جاتا ہوں۔وہ لوگ جو خالص ہو کر اللہ کی خاطر یہ عبادت بجالا رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اتنی جزا دیتا ہے کہ جو شمار میں نہیں آسکتی۔ان کے یہ روزے دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں رکھے جارہے ہوتے بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر ر کھے جاتے ہیں۔ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو دنیا کے دکھاوے کی خاطر نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں اسی طرح روزے بھی رکھ رہے ہوتے ہیں۔وہ جو خالصتا اللہ کی خاطر روزے رکھ رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بہت نوازتا ہے بلکہ فرمایا کہ ان کی جزا میں خود ہو جاتا ہوں۔تو یقیناً ان حالات میں کی گئی جو عبادتیں ہیں اور جو دعائیں ہیں وہ مقبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں روزوں کی فرضیت اور اس سے متعلقہ مسائل کا ذکر فرمایا ہے تو ساتھ ہی یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (سورة البقرة: 187) یعنی اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دے کہ میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سو چاہئے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکموں کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔پس ہر مسلمان کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا دعائیں قبول کروانے کی بعض شرائط ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہو اور اس کی مکمل پابندی کرنے والا ہو، اللہ کا خوف ہو۔پھر جب ایک مومن اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر اس طرح گرتا ہے، یہ حالت اپنے پر طاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کو جواب دیتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں کے حکم کے ساتھ اس آیت کو بھی رکھا ہے، تو ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ مہینہ میری خاص بخشش اور قبولیت دعا کا مہینہ ہے اس لئے اس میں خالص ہوتے ہوئے ، اس مہینے کی قدر کو پہچانتے ہوئے میری طرف آؤ تا کہ میں پہلے سے بڑھ کر تمہاری دعاؤں کو قبول کروں۔پس ان دنوں میں ہر احمدی کو خاص طور پر دعاؤں کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔kh5-030425