خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 436
خطبات مسرور جلد چہارم 436 خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 ہوں کیونکہ میرے سے یہ برداشت نہیں کہ کسی بھی حالت میں خلیفہ وقت کی ناراضگی کا باعث بنوں۔یہ ان کی ذاتی چیز تھی، ذاتی معاملہ تھا لیکن اس میں بھی گوارا نہ کیا کہ خلیفہ وقت کی مرضی کے خلاف ذرا سا بھی کام ہو۔غریبوں اور ضرورتمندوں کا بڑا خیال رکھنے والی، دعا اور صدقہ کرنے والی بزرگ تھیں۔کوئی دعا کے لئے کہہ دیتا تو یا درکھتی تھیں۔ہمارے ایک مربی صاحب ہیں جن کا میدان عمل میں کہیں دورے پر جاتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہو گیا اور بہت بری طرح ایکسیڈنٹ ہوا، ٹانگیں کئی جگہ سے ٹوٹ گئیں ، اب تک بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہیں، انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے ایکسیڈنٹ کے بعد ہسپتال سے ان کو دعا کے لئے فون کیا تو فرمانے لگیں کہ تمہارے لئے روزانہ نفل بھی پڑھ رہی ہوں اور صدقہ بھی نکالتی ہوں۔تو جماعتی کارکنوں کے لئے بڑا ور در رکھتی تھیں۔خلافت سے محبت کے سلسلے میں ایک اور بات ( بتا دوں )۔اب جب اس دفعہ جلسہ پہ آئی ہوئی تھیں۔بڑی کمزور تھیں اور ہلکا ہلکا بیماری کا اثر بھی چل رہا تھا۔کسی نے کہا کہ آپ اب گھر آرام سے رہیں، دوبارہ نہ آئیں آپ کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔کہنے لگیں کہ میں تو خلیفہ وقت سے ملنے کے لئے آتی ہوں۔اور جب تک ہمت ہے آتی رہوں گی۔خلافت سے انتہائی محبت تھی۔اب جاتے ہوئے ان کو گیسٹ ہاؤس میں جب میں مل کر آیا ہوں کہ جا رہی ہیں تو اللہ حافظ۔رات کو ملا ہوں اگلے دن صبح ان کی فلائیٹ تھی۔تو جب ائیر پورٹ پر جانا تھا تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے آکر بتایا کہ بی بی امتہ الباسط صاحبہ باہر کار میں بیٹھی ہوئی ہیں۔میں نے کہا میں تو کل مل آیا تھا۔خیر باہر گئے تو ملاقات ہوئی۔دعا کے لئے انہوں نے کہا، ان کو دعا کر کے رخصت کیا۔اور اللہ کے فضل سے خیریت سے پاکستان پہنچ گئیں لیکن بہر حال اللہ کی تقدیر تھی چند دن کے بعد بیماری کا دوبارہ شدید حملہ ہوا۔ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات ہوگئی۔ان کے گھر پلنے والے ایک لڑکے نے جواب تو جوان بچوں کے باپ بھی ہیں۔مجھے لکھا کہ یہاں جرمنی جب آتیں ( وہ آجکل جرمنی میں ہیں)۔تو ہمارے گھر ضرور آتیں، یہ لڑکا بھی سیالکوٹ کے کسی گاؤں سے آیا۔ان کے والد یا والدہ کوئی ان کو چھوڑ گیا تھا اور وہیں پلا بڑھا ہے۔لکھا ہے کہ جب میرے پاس آتیں تو میرے بچوں کو کہتیں کہ میں تمہاری دادی ہوں اور جیسا کہ میں نے کہا اس بچے کو اس کے ماں یا باپ اس وقت کسی گاؤں سے ان کے پاس چھوڑ گئے تھے۔اور حضرت میر داؤ د احمد صاحب اور بی بی امہ الباسط صاحبہ نے اس لڑکے کو پالا تھا۔پڑھایا لکھایا اور یہ ان کی ایک بڑی خوبی تھی جس سے ایک دفعہ تعلق قائم ہو جاتا تھا اس کو خوب نبھاتی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔