خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 435
435 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم طبیعت کی مالک تھیں۔بچپن میں مجھے یاد ہے کہ ایک دوسرے کے گھروں کے اندر ہی دروازے کھلتے تھے۔تو اس وجہ سے کہ دروازہ بیچ میں ہی ہے، بے وقت ان کے گھر چلا جایا کرتا تھا۔لیکن مجال ہے جو کسی وقت بھی کم از کم میرے سامنے یہ اظہار کیا ہو کہ کوئی بیزاری چہرے سے ٹپکتی ہو یا کسی قسم کا اظہار کیا ہو کہ بے وقت کیوں آتے ہو۔ہمیشہ خالہ ہونے کا حق ادا کیا کہ جس وقت مرضی آؤ گھر پہ حق ہے۔اور ہمیشہ اپنا ر کھلا رکھا۔اس طبیعت کی وجہ سے اور بے تکلفی کی وجہ سے بعض دفعہ باتوں باتوں میں ان کے ساتھ زیادتی بھی ہو جاتی تھی۔یا احساس ہوتا تھا کہ زیادتی ہوگئی ہے۔لیکن وہ ہمیشہ برداشت کر جاتی تھیں۔کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔اس لحاظ سے بھی بڑی غیر معمولی طبیعت تھی۔خلافت سے بے انتہا محبت کا تعلق تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے چھوٹے بھائی تھے۔خلافت کے بعد وہ احترام دیا جو خلافت کا حق ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے جو دوسرے بڑے بہن بھائی ہیں انہوں نے ایک دفعہ باتوں میں ان سے پوچھا کہ پہلے تو نام لیتے تھے اب ادب اور احترام کے دائرے میں ان کو مخاطب کرنے یا ان سے بات کرنے کے لئے آپ کس طرح ان کو مخاطب کرتی ہیں۔تو کہنے لگیں کہ اب وہ خلیفہ وقت ہیں۔میں تو خلیفہ وقت ہی کہتی ہوں تا کہ خلافت کا احترام قائم رہے۔اور ذاتی رشتوں پر خلافت کا رشتہ مقدم رہے۔میرے بارے میں کسی نے پوچھا کہ اب کس طرح مخاطب کریں گی۔تو فرمانے لگیں کہ میرے نزدیک خلافت کا رشتہ سب سے مقدم ہے۔جس طرح حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتی تھی اسی طرح ان کو مخاطب کروں گی۔خلافت کے بعد اپنی خالاؤں میں میری سب سے پہلی ملاقات شاید ان سے ہوئی اور ان کی آنکھوں میں، الفاظ میں، بات چیت میں جو فوری غیر معمولی احترام میں نے دیکھا وہ حیران کن تھا۔گو کہ میرے جو باقی بڑے رشتے تھے انہوں نے بھی اسی طرح اظہار کیا ہے، لیکن ان کو اور میری ایک اور بزرگ ہیں ان کو میں نے فوری طور پر مل لیا تھا اور پہلا موقع تھا اس لئے فوری دل پر نقش ہو گیا۔پھر حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ ان کا جائیداد اور زمینوں کا انتظام مشتر کہ چلتا تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” نے اپنی زندگی میں وہ انتظام میرے سپرد کیا ہوا تھا۔تو ان کی وفات کے بعد جب میں نے ان کے بچوں کو کہا کہ اپنے انتظامات سنبھال لو۔تو ان کو بھی کہا کہ اس طرح علیحدہ کریں۔احمد نگر کی زمینوں کا حساب اور انتظام تھا۔پہلے تو زبانی بھی اظہار کرتی رہیں۔پھر اب اس دفعہ مجھے لکھ کر اس پریشانی کا اظہار کیا کہ کہیں کسی ناراضگی کی وجہ سے تو میں یہ انتظام نہیں چھوڑ رہا۔ان کو سمجھایا کہ جب میرا براہ راست انتظام نہیں اس لئے بہتر ہے کہ اپنا اپنا خود سنبھالیں تو کہنے لگیں کہ میں اسی لئے پریشان