خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 434 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 434

خطبات مسرور جلد چہارم 434 خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 بہر حال لمبا وقت بیٹھے رہے۔گو بظاہر ہمیں تسلیاں بھی دیتے رہے اور ہم بھی ان کو کہتے رہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے لیکن ان کے چہرے پر اس وقت بڑی فکر مندی کے آثار تھے اور مستقل وہاں بیٹھے ہوئے دعاؤں میں مصروف رہے، دعا ئیں اور باتیں ساتھ چلتی رہیں۔غرض ان کی زندگی کے بیشمار واقعات ہیں۔ان کو یہ بھی بہت بڑا اعزاز حاصل تھا کہ 1922 ء سے، جب سے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے با قاعدہ شوری کا نظام جماعت میں قائم فرمایا آپ کو شوری میں شمولیت کرنے کی توفیق ملی۔آپ تقریباً 84 سال تک جماعتی خدمات کی توفیق پاتے رہے اور خوب توفیق پائی۔اللہ تعالی ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے۔حضرت مرزا صاحب کی ایک اور بات بھی ان کے کسی عزیز نے لکھی کہ ہم ان سے ملنے کے لئے گئے۔آپ بیمار تھے۔بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔تو باہر لوگوں کا رش تھا۔بستر پر لیٹے ہوئے ہی لوگ آرہے تھے اور مل رہے تھے۔یہ دو پہر سے پہلے یا بعد کا وقت تھا میں نے ان سے کہا کہ یہ تو ملاقات کا وقت نہیں ہے۔لوگوں کو بھی کچھ خیال کرنا چاہئے کہ وقت پر آیا کریں اور آپ کو اس حالت یعنی بیماری میں آ کر نہ ملیں تو فرمانے لگے کہ امیر کے لئے کوئی وقت نہیں ہوتا۔اگر امارت کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں پھر ہر وقت ہر ایک کا حق ہے کہ آئے اور اپنے مسائل بیان کرے۔تو یہ دوسرے امراء کے لئے بھی بڑا سبق ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت میں آئندہ بھی ایسے علم و عرفان اور وفا سے بھرے ہوئے وجود پیدا فرما تا رہے۔ان کی اولاد کو بھی توفیق دے کہ ہمیشہ احمدیت اور خلافت سے وفا کرنے والے رہیں۔پھر گزشتہ دنوں ہونے والے فوت شدگان میں مولانا جلال الدین صاحب قمر ہیں۔آپ بھی جماعت کے بڑے پرانے خادم اور فدائی بزرگ تھے۔وفات کے وقت آپ کی عمر 83 سال تھی۔لمبا عرصہ فلسطین اور مشرقی افریقہ کے ملکوں میں تبلیغ کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔مختلف زبانوں کو جانتے تھے جو ایک مبلغ کا خاصہ ہونا چاہئے۔عربی، فارسی انگریزی اور مشرقی افریقہ کی بعض مقامی زبانیں بھی جانتے تھے۔جامعہ میں پڑھانے کی بھی ان کو توفیق ملی۔بڑے سادہ مزاج تھے۔مجھے امید ہے کہ ان کے شاگرد آج دنیا میں پھیلے ہوں گے۔تقریباً گیارہ سال تک انہوں نے جامعہ میں بھی پڑھایا تو یہ شاگرد جنہوں نے مولانا صاحب سے پڑھا ان کا فرض ہے کہ اپنے استاد کے درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ان کی اولاد نہیں تھی۔پھر میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ، صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ کا جو میری خالہ بھی تھیں بلکہ ہم دونوں میاں بیوی کی خالہ تھیں۔مجھے بچپن سے ہی ان سے تعلق تھا۔ان کے گھر آنا جانا تھا۔بڑی غیر معمولی۔