خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 433

433 خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم آخر تک اللہ کے فضل سے ذہنی طور پر بالکل ایکٹو (Active) تھے۔اور آپ نے ہمیشہ کامل اطاعت اور فرمانبرداری سے کام کیا۔میرے ساتھ بھی آخری دم تک انہوں نے وفا اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔اپنے خطوط میں ہمیشہ اس بات کا احساس کراتے تھے کہ انجام بخیر ہونے کے لئے دعا کریں۔تقریباً ہر سال جلسے پر یہاں آیا کرتے تھے۔گزشتہ سال بھی آئے تھے اور انتہائی محبت اور پیار اور خلوص کا اظہار فرماتے رہے۔خلافت سے جو وفا اور خلوص کا تعلق تھاوہ تو تھا ہی لیکن اس ناطے کہ مرکزی عہدیدار خلیفہ وقت کے مقرر کردہ ہیں ان عہدیداروں کی بھی نہایت عزت اور احترام فرمایا کرتے تھے۔میں جب ناظر اعلیٰ تھا، جب بھی کسی کام کے لئے ربوہ تشریف لایا کرتے تھے تو صحت کی پرواہ کئے بغیر اور باوجود کمزوری صحت کے اور میرے کہنے پر بھی کہ جہاں آپ ٹھہرے ہوئے ہیں وہیں رہا کریں میں ملنے کے لئے وہیں آجاتا ہوں خود دفتر تشریف لایا کرتے تھے اور ایک عہدیدار کے لئے ان کی آنکھوں سے احترام چھلک رہا ہوتا تھا۔یہ جومیں نے کہا ہے کہ ان کی جو کمزوری تھی اس کے باوجود بھی ان کی یہ بڑی خوبی تھی کہ آخری سالوں میں جو پچھلے چند سال گزرے ہیں، خلیفہ وقت نے جن کمیٹیوں کا بھی ان کو ممبر بنایا تھایا جو کمیٹیاں ان کے سپر د تھیں ان میں ہمیشہ خرابی صحت کے باوجود بھی شامل ہوا کرتے تھے۔سرگودھا سے سفر کر کے آتے تھے اور آخر تک جیسا کہ میں نے کہا ما شاء اللہ دماغی طور پر بڑے ایکٹو (Active) رہے۔بڑے صائب الرائے تھے لیکن دوسروں کی رائے بھی بڑے حوصلے سے سنتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔1988ء میں یہاں حضرت خلیفة أسبح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے مسائل اور خاص طور پر زمینداروں کے مسائل پر ایک کمیٹی بنائی تھی تو مجھے بھی اس کا ممبر بنایا تھا اور مرزا صاحب اس کے صدر تھے۔جب بھی آپ میٹنگ پر تشریف لاتے تو ہر ایک کو موقع دیتے کہ اپنی رائے کا اظہار کرے اور پھر اس رائے کو وزن بھی دیتے تھے۔بحث کرنے کا کھل کے موقع دیتے تھے۔پھر جب ایک جھوٹے مقدمے میں جو میرے خلاف ہوا تھا کہ میں نے ربوہ کے بس اڈے پر ایک بورڈ پرلکھی ہوئی قرآنی آیت کو برش پھیر کر یا کوچی کر کے مٹایا ہے۔اس میں جب مجھے ملوث کیا گیا اور کافی دنوں کی بحث کے بعد جب آخر پہلے سے کئے ہوئے فیصلے کے مطابق عدالت نے مجھے مجرم بنا دیا تو اگلے دن جب ہم تھا نہ ربوہ سے چنیوٹ جا رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ہماری گاڑی کے قریب سے حضرت مرزا صاحب کی گاڑی گزری ہے اور ان کے چہرے سے پریشانی ٹپک رہی تھی۔خیر چنیوٹ عدالت کے صحن میں مرزا صاحب سے ملاقات ہو گئی ، ہماری گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔اس وقت بھی بیمار تھے، میں نے کہا آپ نے کیوں تکلیف کی۔فرمانے لگے اس وقت مجھے اپنی کوئی تکلیف نہیں ہے۔