خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 431
431 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم پس کسی بھی مرنے والے کے ماحول کے لوگ جب اس کی نیکیوں کی گواہی دے رہے ہوں تو یقیناً یہ اس کے حق میں دعا ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے مرنے والوں کو اجر دیتا ہے۔اللہ کرے کہ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کو جنت کے بالا خانوں میں جگہ دے۔یہ ایسے لوگ تھے جو آخرین میں شمار ہوئے۔پھر حتی الوسع اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے خدمات دینیہ ادا کرنے کی توفیق پائی۔ہزاروں لوگوں نے ان کے جنازوں میں شرکت کرنے کی توفیق پائی۔جن سے بھی ان لوگوں کا واسطہ پڑا انہوں نے ان کے لئے تعریفی کلمات ہی کہے۔میرے پاس مختلف لوگوں کے جن سے ان کا واسطہ تھا۔تعزیتی خطوط آئے ہیں اور ہر ایک نے ان کی نیکیوں کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان بزرگوں کے درجات بلند کرتا چلا جائے۔کیونکہ بعد میں بھی ان کے لئے دعائیں کرنی ضروری ہیں۔خاص طور پر جو فوت ہونے والے ہیں ، وفات یافتگان ہیں ان کی اولادوں کو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان کی مغفرت کے لئے دعائیں کرتے رہو جو ان کے درجات کی بلندی کا باعث بنیں گے۔پھر فوت ہونے والوں نے جن لوگوں کے ساتھ نیکیاں کیں ان کا بھی فرض بنتا ہے کہ ان کی مغفرت کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اب میں ان بزرگوں کا مختصر اذکر خیر کروں گا۔ان میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب مرحوم ہیں، مولانا جلال الدین صاحب قمر ہیں، صاحبزادی امتہ الباسط بیگم صاحبہ ہیں اور اسی طرح ایک شہید ماسٹر منور احمد صاحب جو گجرات میں گزشتہ دنوں اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے۔حضرت مرزا عبدالحق صاحب وہ بزرگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تقریباً 106 سال کی لمبی عمر عطا فرمائی۔آپ کی پیدائش جنوری 1900ء کی تھی۔آپ کے بھائی اور چچا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جماعت میں شامل ہونے کی توفیق ملی لیکن آپ نے بیعت نہیں کی کیونکہ آپ چھوٹے ہی تھے۔لیکن نیک فطرت تھے تحقیق کا مادہ چھوٹی عمر میں بھی تھا۔جو متاثر کرنے والی بات تھی اس سے متاثر بھی ہوتے تھے۔1913ء میں حضرت خلیفہ اُسیح الثانی (یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانے کی بات ہے ) ایک دفعہ شملہ تشریف لے گئے تو حضرت مرزا صاحب بھی ان دنوں وہیں تھے۔ان کی عمر اس وقت صرف 14 سال تھی لیکن دینی علم کے حصول اور تحقیق کا مادہ تھا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی جب شملہ گئے ، جیسا کہ میں نے کہا یہ خلافت اولی کا زمانہ تھا۔تو حضرت مرزا صاحب کے ذہن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کا کچھ اور ہی تصور تھا۔لیکن جب خلیفتہ اسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی مجالس میں بیٹھے تو آپ کی نیکی اور علم کا آپ کی طبیعت پر بڑا گہرا اثر ہوا۔مجھے