خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 430

430 خطبه جمعه یکم تمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم جاتے ہیں۔اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پچھلوں کے لئے بھی یہ نمونہ چھوڑ کر جاتے ہیں کہ دنیا کی فانی چیزوں کے پیچھے نہ دوڑ نا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔اگر یہ تمہیں مل گئی تو تمہیں دونوں جہان کی نعمتیں مل گئیں۔وہ اپنے عمل سے اپنے پیچھے رہنے والوں کو ، اپنی نسلوں کو یہ سبق دے کر جاتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی تا کہ اللہ تعالیٰ کے اُس انعام کے مصداق ٹھہریں جس نے فرمایا ہے کہ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَرَتِهِ ﴾ (البقرة: 113 ) یعنی جو بھی اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔پس ایسے لوگ جو اپنے آپ کو خدا کے سپر د کر دیتے ہیں اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے حصہ لیتے ہیں اور آخرت میں بھی انشاء اللہ حصہ لیں گے۔اور آخرت کا حصہ ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد ملنا ہے۔اس فانی دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد ملنا ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ ہر جان کو موت آنی ہے اور موت آنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پھر تمہارا میری طرف لوٹنا ہے اور جب میری طرف لوٹو گے تو ہم انہیں جنہوں نے نیک عمل کئے ہوں گے ضرور بالضرور جنت میں ایسے بالا خانے دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔پس نیک عمل کرنے والوں کا یہ ایسا عمدہ اور اعلیٰ اجر ہے کہ اس کے برابر کوئی اور اجر ہو نہیں سکتا۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے نیک اعمال کے ایسے اجر پائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کی جنتوں کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔ہمارے جو بزرگ گزشتہ دنوں فوت ہوئے ہم امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے مستحق ہوئے ہوں، حقدار ٹھہرے ہوں۔اُن لوگوں نے اپنی زندگیاں اس طرز پر ڈھالنے کی کوشش کی کہ نیک اعمال بجالائیں۔اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور انسانیت کی خدمت میں گزاریں۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر جو بھی چھوٹی سی کوشش انہوں نے کی اس کا کئی گنا بڑھ کر اجر عطا فرمائے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے۔وہاں بیٹھے ہوئے صحابہ نے ان کی تعریف کی۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی۔پھر ایک اور جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی برائی کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہو گئی۔حضرت عمر نے جو پاس بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا حضور ! کیا واجب ہوگئی۔آپ نے فرمایا جس کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے برائی کی اس کے لئے دوزخ واجب ہو گئی۔تم زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو یعنی نیکی اور بدی میں تمیز کی تم لوگوں کو تو فیق دی گئی ہے۔( بخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس علی المیت حدیث نمبر (1367)