خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 432
خطبات مسرور جلد چہارم 432 خطبه جمعه یکم ستمبر 2006 بھی ایک دفعہ انہوں نے یہ سارا قصہ سنایا تھا۔بہر حال حضرت خلیفہ اسی الاول کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب نے حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کی اور اس بیعت کے رشتے کو اس طرح نبھایا کہ کوشش کی کہ اپنا حلیہ بھی وہی رکھیں جو ظاہری طور پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا تھا۔چنانچہ مجھے ایک دفعہ انہوں نے خود بتایا کہ بیعت کے بعد پھر میں نے یہ کوشش کی کہ جو لباس حضرت خلیفہ اسیح الثانی پہنتے ہیں اسی طرح کا لباس پہنوں۔چنانچہ شلوار قمیص اور کوٹ اور سر پر پگڑی ہاتھ میں سوئی وغیرہ اس طرح رکھنی شروع کی۔(جیسا کہ میں نے کہا) تاکہ میں اسی حالت میں رہوں ، اس حالت میں بننے کی کوشش کروں اور وہ حالت اپنے اوپر طاری کروں کہ وہ ہر وقت یادر ہے جس کی میں نے بیعت کی ہے اور پھر جب یہ عادت پڑ گئی تو بہر حال اسی طرح ان کی زندگی ڈھل گئی۔گو آپ خلافت ثانیہ میں جماعت میں شامل ہوئے تھے لیکن اس فکر اور کوشش میں کہ میں نے اب احمدیت کا صحیح نمونہ بنا ہے تقریباً صحابہ کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیا تھا۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے کہنے پر لاء (Law) کا امتحان پاس کیا اور کچھ عرصہ بعد آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں زندگی وقف کرنے کی درخواست پیش کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جواب دیا کہ آپ اپنی پریکٹس جاری رکھیں اور اپنے ا آپ کو زندگی وقف ہی سمجھیں۔چنانچہ انہوں نے ساری ہی زندگی اس کا پاس کیا۔گو آپ پہلے بھی علمی ذوق رکھنے والے تھے اور دینی علم کی طرف بڑی رغبت رکھتے تھے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اس ارشاد کے بعد تو اور بھی زیادہ کوشش کی۔ایک دفعہ انہوں نے بتایا کہ میں نے تو 9 سال کی عمر میں ( جبکہ بچہ تھا ) دینی مسائل پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔اور ماشاء اللہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فوج میں داخل ہوئے تو آپ کے علم و عرفان کو چار چاند لگ گئے۔چنانچہ آپ کے جلسہ سالانہ پر بڑے علمی خطابات ہوتے تھے۔کئی کتابیں لکھی ہیں۔بڑے علمی کام کئے ہیں۔قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے رہے ،سرگودھا میں ان کے کئی شاگر د ہیں۔مجھے الفضل سے پتہ لگا کہ جب صداقت حضرت مسیح موعود پر آپ کی کتاب شائع ہوئی تو ایک بزرگ نے مرزا صاحب کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بتایا ہے کہ یہ کتاب میں نے اپنے حضور قبول کی ، میرا خیال ہے کہ یہ کتاب بھی صداقت حضرت مسیح موعود پر اُن کی جلسہ سالانہ کی ہی تقریر تھی۔بہر حال آپ کی شخصیت ایک گہرے علمی اور دینی ذوق رکھنے والی تھی۔بغیر تیاری کے بھی کسی مضمون پر بولنا شروع کرتے تھے تو خوب حق ادا کر دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کو ایسے علمی اور روحانی افراد عطا فرماتا رہے جو ہمیشہ سلطان نصیر ثابت ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار خلفاء کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔