خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 420 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 420

420 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم مرزا صاحب کو ہی ہلاک کرنے کے لئے آئی ہے اور اس کا اثر ہم پر ہرگز نہیں ہو گا مرزا صاحب پر ہی ہوگا اسی قدر گفتگو پر بات ختم ہو گئی۔جب میں لاہور پہنچا تو ایک ہفتہ کے بعد مجھے خبر ملی کہ چا نور احمد طاعون سے مر گئے اور اس گاؤں کے بہت سے لوگ اس گفتگو کے گواہ ہیں اور یہ ایسا واقعہ ہے کہ چھپ نہیں سکتا۔“ پھر فرماتے ہیں کہ:- میاں معراج دین صاحب لاہور سے لکھتے ہیں کہ مولوی زین العابدین جو مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کردہ تھا اور مولوی غلام رسول قلعہ والے کے رشتہ داروں میں سے تھا اور دینی تعلیم سے فارغ التحصیل تھا اور انجمن حمایت اسلام لاہور کا ایک مقرب مدرس تھا۔اس نے حضور کے صدق کے بارہ میں مولوی محمدعلی سیالکوٹی سے کشمیری بازار میں ایک دکان پر کھڑے ہو کر مباہلہ کیا۔پھر تھوڑے دنوں کے بعد بمرض طاعون مر گیا اور نہ صرف وہ بلکہ اس کی بیوی بھی طاعون سے مرگئی اور اس کا داماد بھی جو محکمہ اکاؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا طاعون سے مر گیا۔اسی طرح اس کے گھر کے سترہ آدمی مباہلہ کے بعد طاعون سے ہلاک ہو گئے۔“ فرماتے ہیں کہ :۔یہ عجیب بات ہے، کیا کوئی اس بھید کو سمجھ سکتا ہے کہ ان لوگوں کے خیال میں کاذب، مفتری اور دجال تو میں ٹھہر امگر مباہلہ کے وقت میں یہی لوگ مرتے ہیں۔کیا نعوذ باللہ خدا سے بھی کوئی غلط فہمی ہو جاتی ہے؟ ایسے نیک لوگوں پر کیوں یہ قہر الہی نازل ہے جو موت بھی ہوتی ہے اور پھر ذلت اور رسوائی بھی۔اور میاں معراج دین لکھتے ہیں کہ ایسا ہی کریم بخش نام لاہور میں ایک ٹھیکہ دار تھا وہ سخت بے ادبی اور گستاخی حضور کے حق میں کرتا تھا اور ا کثر کرتا ہی رہتا تھا۔میں نے کئی دفعہ اس کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔آخر جوانی کی عمر میں ہی شکار موت ہوا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 235 تا 238) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا پر اس قدر یقین تھا کہ اگر آپ بعض دفعہ خطوں میں صرف اتنا ہی کہ کر بھیج دیتے تھے کہ ہم نے دعا کی تو اس سے ان کے دل یقین سے پُر ہو جاتے تھے کہ دعا یقینا ہمارے حق میں قبول ہوگی۔اس طرح کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ میرا دادا جسے لوگ عام طور پر خلیفہ کہتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت مخالف تھا اور آپ کے حق میں بہت بد زبانی کیا کرتا تھا اور والد صاحب کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔والد صاحب نے اس سے تنگ آ کر حضرت مسیح موعود کو دعا کے لئے خط لکھا۔