خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 419 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 419

خطبات مسرور جلد چهارم 419 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 طاعون کے نشان کے طور پر ملک میں پھیلنے اور اس بیماری کے آپ کی دعا سے پھیلنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ:- ا کہترواں نشان جو کتاب ستر الخلافہ کے صفحہ 62 پر میں نے لکھا ہے یہ ہے کہ مخالفوں پر طاعون پڑنے کے لئے میں نے دعا کی تھی یعنی ایسے مخالف جن کی قسمت میں ہدایت نہیں۔سو اس دعا سے کئی سال بعد اس ملک میں طاعون کا غلبہ ہوا اور بعض سخت مخالف اس دنیا سے گزر گئے۔۔۔اور اس کے بعد یہ الہام ہوا۔اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویراں کر دی۔یعنی تو نے کئی دشمنوں کے گھروں کو ویران کر دیا۔اور یہ الحکم اور البدر میں شائع کیا گیا اور پھر مذکورہ بالادعائیں جو دشمنوں کی سخت ایذاء کے بعد کی گئیں جناب الہی میں قبول ہو کر پیشگوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب ان پر آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کرتا اور بدی سے نام لیتا تھا ہلاک ہو گیا۔لیکن اس جگہ ہم نمونہ کے طور پر چند سخت مخالفوں کا ذکر کرتے ہیں۔چنانچہ سب سے پہلے مولوی رسل با با باشندہ امرتسر ذ کر کے لائق ہے جس نے میرے رڈ میں کتاب لکھی اور بہت سخت زبانی دکھائی اور چند روزہ زندگی سے پیار کر کے جھوٹ بولا۔آخر خدا کے وعدہ کے موافق طاعون سے ہلاک ہوا۔پھر بعد اس کے ایک شخص محمد بخش نام جو پٹی انسپکٹر بٹالہ تھا عداوت اور ایذا پر کمر بستہ ہوا اور وہ بھی طاعون سے ہلاک ہوا۔پھر بعد اس کے ایک شخص چراغ دین نام ساکن جموں اٹھا جو رسول ہونے کا دعویٰ کرتا تھا جس نے میرا نام دجال رکھا تھا اور کہتا تھا کہ حضرت نے مجھے خواب میں عصا دیا ہے تا میں عیسی کے عصا سے اس دجال کو ہلاک کروں سو وہ بھی میری اس پیشگوئی کے مطابق جو خاص اس کے حق میں رسالہ دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء میں اس کی زندگی میں ہی شائع کی گئی تھی 4 / اپریل 1906 ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔کہاں گیا عیسی کا عصا جس کے ساتھ مجھے قتل کرتا تھا ؟ اور کہاں گیا اس کا الہام کہ اِنِّی لَمِنَ الْمُرْسَلِيْن؟ افسوس اکثر لوگ قبل تزکیہ نفس کے حدیث النفس کو ہی الہام قرار دیتے ہیں اس لئے آخر کار ذلت اور رسوائی سے ان کی موت ہوتی ہے اور ان کے سوا اور بھی کئی لوگ ہیں جو ایذا اور اہانت میں حد سے بڑھ گئے تھے اور خدا تعالیٰ کے قہر سے نہیں ڈرتے تھے اور دن رات ہنسی اور ٹھٹھا اور گالیاں دینا ان کا کام تھا آخر کار طاعون کا شکار ہو گئے جیسا کہ منشی محبوب عالم صاحب احمدی لاہور سے لکھتے ہیں کہ ایک میرا چا تھا جس کا نام نوراحمد تھا وہ موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد کا باشندہ تھا اس نے ایک دن مجھے کہا کہ مرزا صاحب اپنی مسیحیت کے دعوے پر کیوں کوئی نشان نہیں دکھلاتے۔میں نے کہا کہ ان کے نشانوں میں سے ایک نشان طاعون ہے جو پیشگوئی کے بعد آئی جو دنیا کو کھاتی جاتی ہے۔تو اس بات پر وہ بول اٹھا کہ طاعون ہمیں نہیں چھوئے گی بلکہ یہ طاعون