خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 414
414 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم ایمان کامل پیدافرمایا، آپ نے اپنے مخالفین کو چیلنج دے کر فرمایا کہ تم لوگ جو اٹھتے بیٹھتے مجھے گالیاں دیتے ہو اور کافر و دجال کہتے ہو ( نعوذ باللہ ) میرے سے مقابلہ کرو اور اس کے لئے آپ نے اور باتوں کے علاوہ قبولیت دعا کا پہینج بھی دیا لیکن کسی کو مقابلے پر آنے کی جرات نہیں ہوئی۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دن جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر طلوع ہوتا ہے وہ گزشتہ سو سال سے زائد عرصے سے مخالفین کی انتہائی کوششوں بلکہ بعض حکومتوں کی کوششوں کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جماعت کو ترقی کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعائیں ہی ہیں جو آج تک قبولیت کا شرف پا رہی ہیں اور ان کے پیچھے یقینا وہ دعا ئیں بھی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مسیح و مہدی کے لئے کی ہیں۔آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبولیت دعا کے چند واقعات پیش کروں گا جن سے اللہ تعالیٰ کا آپ سے جو سلوک ہے کہ کس طرح آپ نے مختلف مواقع پر اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کے لئے دعائیں کیں۔آپ ان کے ایمان میں اضافے کے لئے دعائیں کرتے تھے یا جماعت کی ترقی کے لئے آپ دعائیں کرتے تھے یا علمی معجزات دکھانے کے لئے دعائیں کرتے تھے تو جن کے سامنے یہ دعائیں کی گئیں، اللہ تعالیٰ ان ایمان لانے والوں کو ان دعاؤں کی قبولیت کے نشان دکھا کر ان کے ایمان میں اضافے کا باعث بناتا ہے، بلکہ آج تک یہ واقعات پڑھ کر اور جن خاندانوں کے ساتھ یہ واقعات ہوئے ان کی نسلوں میں روایتاً چلتے رہنے سے ان سب کے ایمان میں اضافے کا باعث بناتا چلا جا رہا ہے۔آپ کے قبولیت دعا کے نشانات تو ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ چند ایک کا میں ذکر کروں گا۔پہلے میں ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنی باریکی سے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرتے تھے اور کسی بشری تقاضے کے تحت غیر ارادی طور پر کہیں جو کوئی کمی رہ جاتی تھی تو احساس ہوتے ہی فورا مداوا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس کو پورا کرنے کے لئے دعا بھی کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام باہر شہر سے واپس آئے تو مکان میں جب داخل ہورہے تھے تو کسی سوالی نے (سائل نے ) دور سے سوال کیا۔اس وقت بہت سارے لوگ وہاں تھے۔ان ملنے والوں کی آوازوں میں اس سوالی کی آواز دب گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اندر چلے گئے، تھوڑی دیر کے بعد جب لوگوں کی آوازوں سے دور ہو جانے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کانوں میں اس سائل کی