خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 415
415 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم دکھ بھری آواز گونجی تو آپ نے باہر آ کر پوچھا کہ ایک سائل نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو اس وقت یہاں سے چلا گیا ہے۔اس کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے مگر دل بے چین تھا۔تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر اسی سائل کی ( سوالی کی ) پھر آواز آئی اور آپ لپک کر باہر آئے اور اس کے ہاتھ میں کچھ رقم رکھ دی اور ساتھ ہی فرمایا کہ میری طبیعت اس سائل کی وجہ سے بے چین تھی اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ خدا اسے واپس لائے۔(سیرت طیبہ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 73,72 اب بظاہر یہ چھوٹی سی بات ہے۔سائل آیا، سوال کیا لیکن لوگوں کے رش کی وجہ سے آپ صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے۔لیکن جب احساس ہوا کہ یہ تو ایک سائل تھا، فوراً طبیعت بے چین ہو گئی ، باہر آ کر آپ دریافت فرماتے ہیں۔اور اس کے چلے جانے پر یہ نہیں کہا کہ چلا گیا تو کوئی بات نہیں بلکہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! تو اسے واپس بھیج دے تا کہ میں اس کی ضرورت پوری کر سکوں اور پھر اللہ تعالیٰ بھی اس بے چین دل کی دعا فوراً قبول فرمالیتا ہے۔مسیح موعود کے ہاتھوں جہاں دنیا نے روحانی بیماریوں سے دنیا نے نجات حاصل کرنی تھی اور کی۔جو چور اور ڈاکو تھے وہ بھی مسیح موعود کے ہاتھوں ولی بنے ، وہاں اس مسیح موعود کی دعاؤں سے جسمانی بیماروں نے بھی شفا پائی جس کے بے شمار واقعات ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ہی فرماتے ہیں کہ کابل سے آئی ہوئی ایک غریب مہاجر احمدی عورت تھی جس نے غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود کے دم عیسوی سے شفا پائی۔ان کا نام امتہ اللہ بی بی تھا۔خوست کی رہنے والی تھیں جو کابل میں ہے۔وہ کہتی ہیں کہ جب وہ شروع شروع میں اپنے والد اور چچا سید صاحب نور اور سید احمد نور کے ساتھ قادیان آئیں تو اس وقت ان کی عمر بہت چھوٹی تھی اور ان کے والدین اور چا چی حضرت سید عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد قادیان چلے آئے تھے۔امتہ اللہ صاحبہ کہتی ہیں کہ بچپن میں ان کو آشوب چشم کی سخت بیماری تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے وہ آنکھ کھولنے کی طاقت نہیں رکھتی تھیں۔ان کے والدین نے بہت علاج کروایا مگر کوئی فرق نہیں پڑا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ایک دن جب ان کی والدہ پکڑ کر ان کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگیں تو وہ یہ کہتے ہوئے بھاگ گئیں کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی۔چنانچہ وہ بیان کرتی ہیں کہ میں گرتی پڑتی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے گھر پہنچ گئی اور حضور کے سامنے جاکے روتے ہوئے عرض کی کہ میری آنکھوں میں سخت تکلیف