خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 411
411 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ مجھے کہا کہ دوسری طرف بھی افق پر دیکھو، جب ادھر دیکھا تو وہاں بھی لوگوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔تو جبریل نے مجھے بتایا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان میں 70 ہزار لوگ ایسے ہیں جو بلا حساب اور بغیر سزا کے جنت میں داخل ہوں گے۔میں نے پوچھا یہ کیوں؟ تو جبریل نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دم درود نہیں کرتے اور نہ ہی بد فال لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر تو کل کرتے ہیں۔اس پر عکاشہ بن محصن کھڑے ہو گئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسے لوگوں میں شامل فرمائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ تو اسے ان لوگوں میں شامل کر دے۔اس پر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔حضور نے فرمایا ء کا شہ تم پر سبقت اور پہل حاصل کر چکا ہے۔(بخاری كتاب الرقاق باب يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب حدیث نمبر (6541 پس یہ جو روایت ہے، یہ پیشگوئی ہے، جس میں آپ کی دعاؤں کی تا قیامت قبولیت کا نظارہ دکھایا گیا ہے۔آپ کو جنگ احزاب میں تو تین بڑی طاقتوں کی کنجیاں دی گئی تھیں۔یہاں اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ تمام دنیا کی اکثر آبادی آپ کی امت میں شامل ہو گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو بتا رہا ہے کہ آپ کے غلام صادق جس نے آخرین کو پہلوں سے ملانا ہے، کی جماعت نے ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو تمام باطل دینوں پر غالب کرنا ہے۔اس میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ آپ کی امت میں تا قیامت نیکیوں پر قائم رہنے والے اور صالح عمل کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود رہے گی اور آپ کو تسلی دلائی ہے کہ آپ کی دعاؤں کا اثر تا قیامت آپ کی سچی پیروی کرنے والوں کو پہنچتا رہے گا، آپ کی دعاؤں سے وہ حصہ لیتے رہیں گے۔اور آپ نے یہ بھی نصیحت کر دی کہ صرف میری دعا سے ہی نہیں بلکہ نیک اعمال کر کے ان نیک لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جو بغیر حساب جائیں گے، تمہارے نیک عمل اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں اور وہ تمہاری غلطیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے تمہیں جنت میں ڈال دے، کوشش کرو کہ اس کے فضلوں کو جذب کرو۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ مقام حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں جتنی دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہوگی اتنی زیادہ اور اتنی جلدی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں۔حصہ لیتے چلے جائیں گے، ان برکات کے وارث بنتے چلے جائیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچی پیروی کرنے والوں کا حصہ ہیں، اتنی جلدی ہم دشمن اسلام اور دشمن احمدیت کو خائب و خاسر ہوتا دیکھ لیں گے ، اتنی جلدی ہم فرعونوں اور ہامانوں کی تباہی کے نظارے دیکھ لیں گے۔پس فانی فی اللہ کی دعاؤں سے فیض پانے کے لئے اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق کرتے ہوئے اس کے آگے جھکتے