خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 410
410 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے آئے تھے، خود ان کو اپنی پڑ گئی اور چلے گئے۔چنانچہ جب یہ ہو گیا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد یہ دعا کرتے تھے اور اس وقت کی کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ اَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَ غَلَبَ الاحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق و هي الاحزاب حدیث نمبر 4114) کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو اکیلا ہے اس نے اپنے لشکر کو عزت دی اور اپنے بندے کی مدد کی اور کیلے ہی احزاب کو مغلوب کیا ، اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔دیکھیں ایک وقت تھا جب دشمن آپ کو مکہ میں آپ کو ختم کرنے کے درپے تھا۔اس کے ظلم سے تنگ آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے مکہ سے ہجرت کی لیکن پھر مدینہ میں بھی دشمن حملہ آور ہوتے رہے۔جنگ بدر ہوئی، احد ہوئی، احزاب ہوئی لیکن پھر مدینہ میں بھی جنگ بدر میں یہ لوگ جس طرح حملہ آور ہوئے اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن دعا کی کہ اگر آج مسلمان شکست کھا گئے تو کفار نے ان میں سے پھر کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا اور پھر اے خدا! تیرا نام لیوا دنیا میں کوئی نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرتے ہوئے تسلی دی کہ فکر نہ کرو، فتح تمہاری ہے اور غلبہ اسلام کا ہے انشاء اللہ تعالی۔اور تاریخ شاہد ہے کہ دشمن نے عبرتناک شکست کھائی۔پہلی روایت میں میں اوپر بیان کر آیا ہو کہ کس طرح بدر کی جنگ میں دشمن کے سردار واصل جہنم ہوئے۔پھر اُحد کی جنگ ہوئی اور باوجود دشمن کے حق میں پانسہ پلٹنے کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت بڑے نقصان سے محفوظ رکھا۔پھر جنگ احزاب کی تھوڑی سی تفصیل آپ نے سنی ہے اور قبولیت دعا کے نظارے بھی دیکھے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تسلی دیتا ہے کہ جب ایک تھے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دشمن تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔اے میرے پیارے نبی میں تو تیری پہلے دن کی دعائیں سن چکا ہوں اور ان کو قبولیت کا درجہ دے چکا ہوں اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ دین اب قیامت تک ختم ہونے والا نہیں بلکہ تمام دینوں پر غالب آنا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے گزشتہ امتیں پیش کی گئیں، میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ ایک گروہ ہے اور کسی کے ساتھ چند افراد ہیں اور کسی نبی کے ساتھ دس افراد ہیں اور کسی نبی کے ساتھ پانچ افراد ہیں اور کوئی نبی اکیلا ہی ہے۔اسی اثناء میں میں نے ایک بڑا گروہ دیکھا، میں نے پوچھا اے جبریل! کیا یہ میری امت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ آپ افق کی طرف دیکھیں، جب میں نے نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ