خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 34

خطبات مسرور جلد چهارم 34 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء پہنچاتے ہیں۔اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں۔اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔اکثر لوگ باوجود بیعت کے اور باوجود میرے دعوے کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہر یلے تم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی ان میں باقی رہ جاتی ہے۔اور ایک پوشیدہ بخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو خواہ آبرو کے متعلق ہو خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ، ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلا پیش نہ آوے۔اور ان خدمتوں کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں۔لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور اپنی آبرو اور اپنی جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی رڈی چیز پھینک دی جاتی ہے۔اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اول اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنی سی ٹھوکر یا شیطانی وسوسہ یا بد صحبت سے وہ گر جاتے ہیں۔مگر اس جوانمر دمرحوم کی استقامت کی تفصیل میں کن الفاظ میں بیان کروں کہ وہ نوریقین میں دمبدم ترقی کرتا گیا“۔" (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 10 پھر فرمایا کہ: ” بے نفسی اور انکسار میں وہ اس مرتبہ تک پہنچ گیا کہ جب تک انسان فنافی اللہ نہ ہو یہ مرتبہ نہیں پاتا۔ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے۔اور اپنے تئیں کوئی چیز سمجھنے لگتا ہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہو جاتی ہے۔مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنے علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہو سکتی تھی۔اور آخر سچائی پر اپنی جان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایک ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل منشا ء خدا کا ہے۔اور (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 47) حضرت خلیفہ امسح الاول کی مثال میں آخر پر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس جگہ میں اس بات کے اظہار کے شکر ادا کرنے کے بغیر نہیں رک سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت و اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا kh5-030425