خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 33
33 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم میں اپنی قوت قدسیہ سے یہ اثر پیدا کر دیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو کارساز یقین کرتے تھے اور کسی سے ڈر کر جھوٹ جیسی نجاست اختیار نہیں کرتے تھے۔اور حق کہنے سے رکتے نہیں تھے۔اور اخلاق رذیلہ سے بچتے تھے۔اور اخلاق فاضلہ کے ایسے خوگر ہو گئے تھے کہ وہ ہر وقت اپنے خدا پر ناز کرتے تھے کہ ہمارا خدا ہمارے ساتھ ہے۔یہ یقین ہی تھا کہ آپ کے دوستوں کے دشمن ذلیل و خوار ہو جاتے تھے اور آپ کے دوست ہر وقت خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہی رہتے تھے۔اور خدا تعالیٰ کی معیت ان کے ساتھ ہی رہتی تھی۔اور آپ کے دوستوں میں غنا تھا اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے تھے۔اور حق کہنے سے نہ رکتے تھے اور کسی کا خوف نہ کرتے تھے۔اعمال صالحہ کا یہ حال تھا کہ ان کے دل محبت الہی سے ابلتے رہتے تھے اور جو بھی کام کرتے تھے خالصتاًاللہی سے کرتے تھے۔ریا جیسی ناپاکی سے بالکل متنفر رہتے تھے کیونکہ ریا کاری کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خطر ناک بدا خلاقی فرمایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ اس میں انسان منافق بن جاتا ہے۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 6 صفحہ 66 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کے بارہ میں فرماتے ہیں: ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گزری تھی اور دنیا کی عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی انہوں نے اسی واسطے چھوڑ دی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں ان کو ایک نوکری دو سو روپیہ ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔اس زمانہ کے دو سو روپیہ ماہوار ہزاروں ہوں گے آج کل ، شاید لاکھ بھی ہوں۔”خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزار دی۔صرف عربی کتابوں کو دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔اسلام پر جو اندرونی اور بیرونی حملے پڑتے تھے ان کے دفاع میں عمر بسر کر دی۔باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 648 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ تھے مجاہد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پیدا فرمائے۔اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ان کی وفات پر ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ بزرگ جارہے ہیں اس لئے ہمیں جماعت میں علماء پیدا کرنے کے لئے مدرسہ قائم کرنا چاہئے اور پھر وہ قائم فرمایا تھا۔تو جو دینی علم حاصل کرنے والے ہیں، تمام دنیا میں جہاں جہاں جامعہ احمد یہ ہیں، جامعہ میں پڑھنے والے لوگ ہیں وہ ان بزرگوں کو اپنے سامنے نمونے کے طور پر رکھیں۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جنہوں نے ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا۔حضرت مسیح موعودان کے بارہ میں فرماتے ہیں: اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا۔اور در حقیقت ان راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقوی اور اطاعت الہی کو انتہاء تک kh5-030425