خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 35

خطبات مسرور جلد چهارم 35 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء کی ہیں۔بعضوں کا ذکر کیا کہ شاید وہ قربانی نہ کرسکیں لیکن اکثریت قربانی کرنے والی تھی۔ان کا ذکر فرما رہے ہیں کہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔سب سے پہلے میں اپنے روحانی بھائی کا ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نورا خلاص کی طرح نورالدین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کا جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔اتنی خدمت کرنے کے با وجود کتنا ز بر دست خراج تحسین ہے۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہوا ہے اس کے تصور سے ہی قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو ان کو میسر ہیں ہر وقت اللہ اور رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔اور میں تجربے سے، نہ صرف حسن ظن سے، یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں۔اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے اور بعد میں ادا کیا بھی۔ان کے بعض خطوط کی چند سطر میں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں تا انہیں معلوم ہو کہ میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نورالدین بھیروی معالج ریاست جموں نے محبت واخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطر میں یہ ہیں۔مولانا، مرشد نا، اما منا ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عالی جناب! میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں۔اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا ہے وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں۔اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میر انہیں آپ کا ہے۔حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے۔اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غم خواری اور جاشاری جیسے ان کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔اور وہ محبت و اخلاص kh5-030425