خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 388
388 خطبہ جمعہ 04 / اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حمق حقیقت سے نا آشنا استغفار کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ جس قدر یہ لفظ پیارا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی پاکیزگی پر دلیل ہے ، وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عاشق رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کر رہے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پا کر تدارک کرتے ہیں۔یہ کیفیت ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجزوم القلب لوگوں کو سمجھا ئیں ، ان پر وارد ہو تو وہ سمجھیں۔جب ایسی حالت ہوتی ہے احسانات الہیہ کی کثرت آکر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر استغفار کے ذریعہ اپنے قصور شکر کا تدارک کرتی ہے۔یہ لوگ خشک منطق کی طرح اتنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ قومی جن سے کوئی کمزوری یا غفلت صادر ہو سکتی ہے وہ ظاہر نہ ہوں۔نہیں وہ ان قومی پر تو فتح حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کر کے استغفار کرتے ہیں کہ شکر نہیں کر سکتے۔یہ ایک لطیف اور اعلیٰ مقام ہے جس کی حقیقت سے دوسرے لوگ نا آشنا ہیں ، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حیوانات، گدھے وغیرہ انسانیت کی حقیقت سے بے خبر اور نا واقف ہیں۔یعنی وہ لوگ جن کو اس مقام کا نہیں پتہ۔اسی طرح پر انبیاء ورسل کے تعلقات اور ان کے مقام کی حقیقت سے دوسرے لوگ کیا اطلاع رکھ سکتے ہیں۔یہ بڑے ہی لطیف ہوتے ہیں اور جس جس قدر محبت ذاتی بڑھتی جاتی ہے اسی قدر یہ اور بھی لطیف ہوتے جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 633،632، جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہ اَللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لكَ ذَاكِرًا یعنی اے میرے اللہ تو مجھے اپنے شکریہ بجالانے والا اور بکثرت ذکر کرنے والا بنا۔(سنن ابی داؤد كتاب الصلوة باب ما يقول الرجل اذا سلم حدیث نمبر (1510) پھر آپ کے بارے میں ایک اور روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی پہنچتی تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر جاتے۔(سنن ابی داؤد کتاب الجهاد باب في سجود الشكر حديث نمبر 2774) | پھر ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ دعا میں بہت ہی کوشش سے کام لو تو تم یہ کہو کہ اے اللہ اپنے شکر اور اپنے ذکر اور اپنے اچھے طریق سے عبادت کرنے میں ہماری مدد فرما - اللَّهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْركَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (مسند احمد بن حبنل مسندابی هریرة جلد نمبر 3 حدیث نمبر 7969 صفحه 184) | ایک دوسری روایت میں حضرت معاذ بن جبل سے یہ روایت ہے کہ ان سے بہت محبت کا اظہار کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے آخر میں ان